بلوچستان میں اب زیادہ مقامی منتقلی ہو رہی ہے: لیاقت شاہوانی
بلوچستان کی حکومت نے 30 اپریل تک لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بدھ کو کرونا کے حوالے سے حکومتی اقدامات بارے آگاہ کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مختلف تاجر تنظیمیں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ لہذٰا حکومت نے بعض تاجروں کے لیے مختلف شعبوں میں رعایت دی ہے۔
لیاقت شاہوانی نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے سے منسلک کمپنیوں اور دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے لیے سماجی فاصلے کا خیال رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ کھجور کے کاروبار سے منسلک افراد کو بھی کام کی اجازت دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں تندور والے ہوٹلز کو بھی سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے کھولنے کی اجازت ہو گی۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ایس او پیز کا خیال نہ رکھنے پر جرمانہ کیا جائے گا۔ جانوروں کی مارکیٹ بھی کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
لیاقت شاہوانی نے کہا کہ اب بیرونی ممالک سے کرونا کے مریض کم آرہے ہیں۔ اُن کے بقول اب زیادہ کیسز مقامی منتقلی کے ہیں۔ بلوچستان میں کرونا کے 277 کیسز ہو گئے ہیں۔ ایک ہی دن میں 22 کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
دوسری طرف انجمن تاجران نے بدھ سے دکانیں کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن صبح ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد تاجران نے فی الحال اپنی دُکانیں بند رکھنے کے حکومتی فیصلے سے اتفاق کر لیا ہے۔
لاہور میں بعض کاروبار جزوی طور پر بحال
کرونا وائرس میں مبتلا بچوں کے لیے وزیر اعلٰی پنجاب کے تحائف
ڈبلیو ایچ او کی فنڈنگ روکنے پر چین سمیت دیگر ممالک کی امریکہ پر تنقید
چین نے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے دنیا کے تمام ملک متاثر ہوں گے۔ خصوصاً اس وقت جب دنیا کرونا وائرس کی وبا کا سامنا کرتے ہوئے انتہائی اہم مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت پر تنقید کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کووڈ-19 کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں سب سے اچھی بات یہ ہو گی کہ اقوام متحدہ اور خاص طور پر عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ بڑھاتے ہوئے اسے تعاون فراہم کیا جائے۔ تاکہ وہ ٹیسٹس اور ویکسین کی سہولتیں فراہم کرنے پر کام جاری رکھ سکے۔
یورپین یونین کی خارجہ امور کی پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی خدمات کی اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور ان حالات میں صدر ٹرمپ کی ادارے پر تنقید بلا جواز ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم بہت سے ممالک میں ٹیسٹ کی سہولیات کی کمی کے باعث اس میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔
فرانس کا کہنا ہے کہ ملک میں 15 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ فرانس اس وقت امریکہ، اٹلی اور اسپین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں کے حوالے سے چوتھا ملک ہے۔
اٹلی اور سپین نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا ہے جبکہ فرانس نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں توسیع کر دی ہے۔
امریکہ کی مغربی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں اسی وقت ختم کریں گے جب ریاست میں کرونا وائرس کے باعث استپال آنے والے مریضوں کی تعداد مسلسل دو ہفتے تک کم ہوتی رہے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹیسٹ وسیع پیمانے پر کیے جاتے رہیں اور طبی عملے کے لیے حفاظتی ساز و سامان کی فراہمی میں تسلی بخش طور پر اضافہ ہو۔ تاکہ کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی بروقت نشاندہی کے بعد انہیں الگ کیا جا سکے۔
بھارت نے اعلان کیا ہے کہ پیداواری شعبے اور زراعت کے شعبے 20 اپریل سے کھول دیے جائیں گے تاہم ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں آئندہ ماہ کے آغاز تک جاری رہیں گی۔
ادھر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے دار رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہوں میں 20 فی صد کمی کر رہے ہیں۔ تاکہ اس وائرس کے تناظر میں ملک میں اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنے میں مدد مل سکے۔