کرونا وائرس کے باعث کان فلم فیسٹیول کا انعقاد مشکل
کرونا وائرس کی وبا نے رواں سال ہونے والے 73 ویں کان فلم فیسیٹول کا انعقاد بھی مشکل بنا دیا ہے. غالب امکان ہے کہ اس بار یہ فیسٹیول اپنی اصل شکل میں منعقد نہیں ہوسکے گا۔
رواں برس 12 سے 23 مئی تک ہونے والے اس فیسٹیول کو گزشتہ مہینے منتظمین نے جون یا جولائی تک موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم منتظمین کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے اب شاید یہ فیسٹیول جون اور جولائی میں بھی منعقد نہ ہوسکے۔
کان کے صدر پیئرس لیسکیور کا کہنا ہے کہ انہیں امید تھی کہ مارچ کے آخر تک کرونا وائرس کا زور ٹوٹ جائے گا۔ جس کے بعد اسے مئی میں پُرسکون انداز سے منعقد کیا جاسکے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے لاک ڈاؤن میں 11 مئی تک کی توسیع کے اعلان سے جولائی تک کسی بھی عوامی اجتماع کے انعقاد کی اجازت ناممکن ہوگئی ہے۔
اعلان کے سبب فیسٹیول کے جون یا جولائی میں انعقاد کے امکانات تقریبا ختم ہو گئے ہیں جب کہ فیسٹیول اگر رواں سال نئی تاریخوں پر ہوا بھی تو اسے مختصر یا محدود کیے جانے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں باجماعت نماز پر پابندی ختم
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے مساجد میں باجماعت نماز اور نماز جمعہ میں صرف پانچ افراد کی پابندی ختم کر دی ہے۔
مساجد میں محدود اجتماعات پر پابندی کے خاتمے کا فیصلہ پاکستانی کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے علما کے ساتھ ایک اجلاس میں کیا۔
وزیراعظم فاروق حیدر کی طرف سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی کشمیر میں نماز تراویح پر بھی کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔
البتہ اُن کا کہنا تھا کہ مساجد میں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے نمازیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ پاکستانی کشمیر کی حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران علما کرام پر قائم کیے گئے مقدمات بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس موقع پر علما نے ہیلتھ ایمرجنسی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کرونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ کرونا کے مزید پانچ مریض صحت یاب ہو گئے ہیں۔ البتہ لاک ڈاون 29 اپریل تک جاری رہے گا۔
پاکستانی کشمیر کے حکومتی ترجمان ڈاکٹر مصطفی بشیر نے کہا کہ حکومت مرحلہ وار پابندیاں ہٹانے پر غور کر رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اب تک 46 افراد میں کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
ڈاکٹر مصطفی کا کہنا تھا کہ مساجد سے قالین ہٹا لیے جائیں گے جب کہ جراثیم کش اسپرے کرنے کے علاوہ نمازیوں کو ایک دوسرے سے دور کھڑے ہونے سے متعلق حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ صورتِ حال کے پیشِ نظر مشتبہ افراد کو گھروں میں ہی قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
افغانستان میں پھنسے پاکستانی سرحد پر واپسی کے احکامات کے منتظر
پاکستان اور افغانستان میں سرحدی گزرگاہیں بند ہونے سے سرحد پار پھنسے پاکستانی طورخم بارڈر پر پہنچ کر وطن واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کرونا وائرس کے باعث سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے افغانستان میں پھنسے اکثر پاکستانیوں کا تعلق سرحد سے ملحقہ قبائلی ضلعے خیبر سے بتایا جا رہا ہے۔
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما بھی روایتی جرگے کی مدد سے حکومت سے ان لوگوں کی جلد از جلد واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سینیٹر تاج محمد آفریدی جو ایوان بالا (سینیٹ) میں سرحدی علاقوں کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، نے اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کو خط بھی لکھا ہے۔
افغانستان سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں بالخصوص کابل اور جلال آباد میں پھنسے درجنوں افراد اتوار کو طورخم پہنچ گئے تھے جب کہ انہوں نے پاکستان واپسی کے لیے مظاہرہ بھی کیا۔
مظاہرین کو سرحدی حکام نے بتایا کہ ابھی تک اسلام آباد یا پشاور سے ان کی واپسی کے لیے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے۔
ورجینیا کے نرسنگ ہوم میں کرونا وائرس سے 45 اموات
بہت سے لوگ ہوں، مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں اور مل کر رہتے ہوں۔ وائرس اس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہتا۔ یہ الفاظ ہیں ڈاکٹر جم رائٹ کے، جو امریکی ریاست ورجینیا کے شہر رچمنڈ میں ایک نرسنگ ہوم کے میڈیکل ڈائریکٹر ہیں۔
اس نرسنگ ہوم کا نام 'کینٹربری ری ہیبیلی ٹیشن اینڈ ہیلتھ کئیر سینٹر' ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس مرکز کے 160 میں سے 45 رہائشی کرونا وائرس کا شکار ہو کر چل بسے ہیں، جب کہ مزید درجنوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
امریکہ میں کرونا وائرس رچمنڈ سے ہزاروں میل دور ریاست واشنگٹن سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور کرک لینڈ کا 'لائف کئیر نرسنگ ہوم' اس کا پہلا نشانہ تھا۔ لیکن وہاں 43 یعنی رچمنڈ سے کم اموات ہوئی تھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کینٹربری امریکہ میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والا نرسنگ ہوم بن گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، امریکہ بھر میں کم از کم ڈھائی ہزار نرسنگ ہوم یا عمر رسیدہ افراد کے مراکز ایسے ہیں جہاں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔ ان میں قیام پذیر افراد اور عملے کے 21 ہزار ارکان میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان میں سے 3800 ہلاک ہوچکے ہیں۔
ریاست نیویارک میں کرونا وائرس سے 2700 یعنی ایک چوتھائی اموات نرسنگ ہومز ہی میں ہوئی ہیں۔ ان مراکز کو ریفریجریٹر ٹرکس منگوانے پڑے جہاں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں رکھنا پڑیں، کیونکہ مردہ خانوں یا فیونرل ہومز میں جگہ نہیں تھی۔