جنگ عظیم کا سپاہی وائرس کے خلاف محاذ پر
ننانوے سالہ ٹام مور دوسری جنگ عظیم کے سابق فوجی ہیں۔ اب وہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کی قومی ہیلتھ سروس کے لیے فنڈ جمع کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
وہ دراصل ان ڈاکٹروں اور نرسوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں جو کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ وہ ڈاکٹروں اور نرسوں کے شکر گذار ہیں جنہوں نے عشروں پہلے ان کے ٹوٹے ہوئے کولہوں کو جوڑا تھا۔
ان کے گھر والوں نے سوشل میڈیا پر ان کے نام سے اپیل کی ہے کہ مور ہیلتھ ورکرز کے لیے فنڈ جمع کرنا چاہتے ہیں۔ آپ سے مدد کی درخواست ہے۔
پچھلے ہفتے تک ان کا اور گھر والوں کا خیال تھا کہ تیس اپریل تک ایک ہزار پاونڈ جمع ہو جائیں گے۔ لیکن سوشل میڈیا پر عوام و خواص کا رد عمل غیر معمولی تھا۔ چند ہی دنوں میں پچھتر لاکھ پاوںڈ کے وعدے کیے ہیں۔
مور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس کو دی جانے والی ایک ایک پائی ان ہیلتھ ورکرز کا حق ہے۔
جاپان: ہلاکتوں میں سنگین اضافے کا انتباہ
جاپانی میڈیا میں آنے والی خبروں کے بعد کہ اگر ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو کرونا وائرس سے چار لاکھ کے قریب شہری ہلاک ہو سکتے ہیں، جاپان نے بدھ کو اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے۔ ساتھ ہی وزیر اعظم شنزو ایبے پر مزید رقم دینے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
جاپان میں صرف اُن لوگوں کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں جن میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہوں۔ اب تک ملک میں 8000 افراد وائرس سے متاثر اور تقریباً 200 ہلاک ہوئے ہیں۔
جاپانی میڈیا نے محکمہ صحت کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ہنگامی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ملک میں ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ سکتی ہے اور ساڑھے آٹھ لاکھ افراد کو وینٹی لیٹروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں جاپان میں وائرس سے بیمار ہونے والوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ ہنگامی اقدامات میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور کاروبار بند کردیے گئے ہیں۔ تاہم، خلاف ورزی پر کسی قسم کی سزا یا جرمانہ عائد نہیں کیا گیا۔
فرانس میں وائرس سے اموات میں پھر اضافہ
فرانس میں چند دن تک اموات میں کمی کے بعد ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں بدھ کو کرونا وائرس کے 1438 مریض ہلاک ہوگئے۔ اسپین، اٹلی اور ایران میں یومیہ اموات نسبتاً کم ہوئی ہیں، جبکہ برازیل، سویڈن اور کینیڈا میں ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ 75 ہزار اور اموات کی تعداد ایک لاکھ 34 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔
24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 761، اٹلی میں 578، اسپین میں 453، جرمنی میں 309، بیلجیم میں 283، برازیل میں 225، نیدرلینڈز میں 189، سویڈن میں 170، ترکی میں 115 اور کینیڈا میں 103 افراد دم توڑ گئے۔ ایران میں 94، میکسیکو میں 74 اور سوئزرلینڈ میں 65 افراد چل بسے۔
امریکہ میں لاک ڈاون ختم کرنے کے معاملے پر سیاسی طوفان
امریکہ کے مختلف حصوں میں کرونا وائرس بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں، ملک میں ایک نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے اور وہ یہ کہ امریکہ میں کاروبار زندگی کا دوبارہ آغاز کب کیا جائے۔
سیاستدان، اقتصادی اور طبی ماہرین سب ہی اس بحث میں مصروف ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں کیا یہ محفوظ ہوگا کہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر معمولات زندگی شروع کریں اور اسکول کھول دیئے جائیں۔ لیکن، اس سے پہلے کہ کوئی فیصلہ کیا جائے، سیاسی رہنما اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ اس کے بارے میں فیصلے کا اختیار کسے حاصل ہے۔
نیویارک کے اینڈریو کومو اور دوسرے گورنر حضرات مل کر ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی تحت ان کی ریاستوں میں گھروں پر رہنے کی بندش کو دھیرے دھیرے نرم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ کرونا وائرس سے نیویارک کی ریاست سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔