برطانیہ: شہری کی 100ویں سالگرہ پر انوکھی مہم جوئی
کرونا کی وبا کے دوران دنیا بھر میں لوگوں نے لاک ڈاؤن کے اندر رہتے ہوئے اس سے نمٹنے کے نت نئے طریقے اختیار کرنے شروع کر دیے ہیں اور اس سلسلے میں متاثرہ افراد کے لیے طبی خدمات انجام دینے والے عملے کو خراج تحسین پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
برطانیہ میں ایک شہری ٹام مور نے اپنی 100 ویں سالگرہ سے قبل گھر کے باغیچے میں 25 میٹر لمبائی کے احاطے میں دوڑ کے 100 چکر مکمل کیے۔
ایسا کرتے ہوئے ٹام مور نے برطانیہ کی قومی صحت کی خدمات کے ادارے کے لیے ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم اکٹھی کی ہے۔
چندہ اکٹھا کرنے کی اس آن لائن مہم کے دوران 624000 ڈالر کا ہدف رکھا گیا تھا تاہم ٹام مور کے 100 چکر مکمل ہونے تک عطیات کی رقم ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک جا پہنچی۔
ٹام مور نے کہا کہ انہیں اس مہم کے لیے ترغیب اس وقت ملی جب انہیں کینسر کے دوران بے مثال طبی امداد دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے تجربات کو یاد رکھنا چاہئیے اور ہم کرونا وائرس سے بھی بالآخر نجات حاصل کر لیں گے۔
پاکستان سمیت 76 ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ ملنے کا امکان
دنیا کی بڑی معیشتوں پر مشتمل جی۔20 ممالک نے عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ غریب ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے زیادہ وسائل بروئے کار لا سکیں۔
جی۔20 ممالک کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان سمیت 76 ممالک کو رواں سال واجب الادا 40 ارب ڈالرز کے قرضوں کی ادائیگی میں ایک سال کی چھوٹ ملنے کا امکان ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی تصدیق کی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کی درخواست پر جی-20 ممالک نے پاکستان سمیت 76 ملکوں کو قرضوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل جی۔سیون ممالک نے اس حوالے سے جی۔20 ممالک کو فیصلہ کرنے کا کہا تھا۔ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ (ٓآئی ایم ایف) نے بھی جی۔20 ممالک کے فیصلوں پر عمل درآمد کا عندیہ دیا تھا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ایک تاریخی اقدام ہے۔ جس سے غریب ممالک کو کرونا وائرس کے باعث درپیش صورتِ حال سے نبرد آزما ہونے میں مدد ملے گی۔
افغان صدر کا ایک بار پھر طالبان پر جنگ بندی پر زور
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ایک بار پھر طالبان پر جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
اشرف غنی نے کہا ہے کہ فائر بندی سے جنگ زدہ علاقوں میں امدادی رضا کاروں کو کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی مدد کر سکیں گے۔ آنے والے ہفتوں میں وبا سے مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔
افغان صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کو امریکہ، خطے کے ممالک اور افغان عوام کی اس بات کو سننا چاہیے جس میں ان سے لڑائی کی بندش کا کہا جا رہا ہے۔
اشرف غنی نے وبا سے افغانستان میں صحت کا شعبہ شدید متاثر ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا۔
- By روشن مغل
پاکستانی کشمیر میں دوسرے روز بھی کوئی کیس سامنے نہیں آیا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جمعرات کو بھی کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
کشمیر کی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر نے بتایا ہے کہ بدھ کی طرح جمعرات کو بھی کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے شبہے میں 1135 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 1061 کے نتائج آ چکے ہیں۔
ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر کے مطابق اب تک 46 افراد کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ جن میں سے 9 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔