چین نے امریکی کمپنیوں کا طبی ساز و سامان روک لیا
امریکی محکمہ خارجہ کی ایک حالیہ دستاویز سے انکشاف ہوا ہے کہ چین نے امریکی کمپنیوں کا انتہائی اہم طبی ساز و سامان معیار کی جانچ کے نام پر روک لیا ہے۔
متعدد امریکی کمپنیاں معاہدے کے تحت چین کے کارخانوں سے سامان بنواتی ہیں اور اسے امریکہ اور دوسرے ملکوں میں اپنے صارفین کو فراہم کرتی ہیں۔ ان میں طبی ساز و سامان بنانے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکہ کی ضرورت کا سامان چینی گوادموں میں پڑا ہے اور اسے نئی رکاوٹوں کے باعث روانہ نہیں کیا جا رہا۔
واشنٹگن کے چینی سفارت خانے نے اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا کو طبی ساز و سامان کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے چین کو بڑی تعداد میں برآمدات کی جانچ پڑتال اور کوالٹی کنٹرول کے چیلنج کا سامنا ہے۔
امریکہ کے تجارتی نمائندے لائٹ ہائزر نے چند دن پہلے کہا تھا کہ ''بدقسمتی سے ہم نے اس بحران سے یہ سبق سیکھا ہے کہ سستی میڈیکل مصنوعات کے لیے دوسرے ملکوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا''۔
دنیا بدترین کساد بازاری کی لپیٹ میں
کرونا وائرس کی عالمی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر کے ممالک بدستور شدید کساد بازاری کی لیپٹ میں آ رہے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہورہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صورتحال روز بروز سنگین ہوتی نظر آرہی ہے اور اب مزید کمپنیاں ایسے ملازمین کو بھی جو وائٹ کالر کارکنوں کے زمرے میں شمار کئے جاتے ہیں بغیر تنخواہ کے گھر بھیج رہی ہیں۔ اندیشہ ہے کہ آنے والے ہفتوں میں جب معیشت پر کرونا وائرس کے اثرات پوری طرح ظاہر ہوں گے، اس تعداد میں لاکھوں کا اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔
بعض اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت اس سال کی پہلی سہ ماہی میں دس اعشاریہ آٹھ فیصد تک سکڑ گئی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یہ سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
امریکہ بھر میں تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار اسٹور بند ہوگئے ہیں جو ملک کا لگ بھگ نصف بنتے ہیں۔ ریٹیل اسٹورز کے علاوہ ریستورانوں، ورزش گاہوں اور ٹریول کے کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن۔ کارکنوں کی چھانٹیاں منیو فیکچرنگ، ٹرانسپورٹیشن اور دوسرے شعبوں میں بھی بہت زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
تین بڑی ریٹیل کمپنیوں یعنی میسیز، کوہل اور گیپ نے مجموعی طور پر دو لاکھ نوے ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا ہے، جبکہ دوسری بڑی ریٹیل کمپنیوں نے ہزاروں کو بغیر تنخواہوں کے گھر بھیج دیا ہے۔
نیویارک میں 10 ہزار، امریکہ میں 34 ہزار، یورپ میں 92 ہزار اموات
نیویارک کی انتظامیہ نے گھروں یا نرسنگ ہومز میں ہونے والی ہزاروں اموات کو کرونا وائرس کی ہلاکتوں میں شامل کر لیا ہے۔ اس کے بعد شہر میں اموات کی تعداد 10 ہزار اور امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 34 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔
ادھر برطانیہ میں جمعرات کو مزید 861 افراد انتقال کر گئے، جبکہ ملک میں مصدقہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہوگئی۔ برطانیہ یورپ کا پانچواں اور دنیا کا چھٹا ملک ہے جہاں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ ہوئی ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 21 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 44 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ صرف یورپ میں 92 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
24 گھنٹوں کے دوران فرانس میں 753، اٹلی میں 525، بیلجییم میں 417، اسپین میں 318، کینیڈا 181، نیدرلینڈز میں بھی 181، برازیل میں 167، جرمنی میں 139، سویڈن میں 130 اور ترکی میں 125 چل بسے۔ ایران میں 92 افراد کا انتقال ہوا جبکہ چین میں ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔
امریکہ میں جمعرات کی سہہ پہر تک 1645 اموات ہو چکی تھیں۔ ملک میں کرونا وائرس کے 33 لاکھ 70 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 6 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
امریکہ میں سب سے زیادہ اموات ریاست نیویارک میں ہوئی ہیں جن کی تعداد 16251 ہوچکی ہے۔ نیوجرسی میں 3518، مشی گن میں 2093، لوزیانا میں 1156، میساچوسیٹس میں 1108 اور الی نوئے میں 1072 ہلاکتیں ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔
پاکستان میں ہلاکتیں 135 ہو گئیں
پاکستان میں کرونا وائرس کے شکار مزید 11 مریض دم توڑ گئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 135 ہو گئی ہے۔ ملک بھر میں متاثرہ مریضوں کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران گیارہ اموات کے بعد ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 135 ہو گئی ہے۔