سندھ میں تین گھنٹے کا لاک ڈاؤن
حکومت سندھ نے نمازِ جمعہ کے اجتماعات محدود رکھنے کے لیے آج 12 بجے سے دوپہر تین بجے تک لاک ڈاؤن مزید سخت رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے مسلسل تیسرے جمعے بارہ بجے سے تین بجے کے دوران لاک ڈاؤن میں سختی کی جا رہی ہے۔
حکم نامے کے مطابق مذکورہ دورانیے کے دوران کسی کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
عمران خان کا اظہار افسوس
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کرونا وائرس سے ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ خبر سن کر بہت صدمہ پہنچا ہے کہ بیرون ملک رہنے والے متعدد پاکستانی کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ہلا ک ہو گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اُن کی ہمدردیاں اور دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
- By علی فرقان
جمعے کے اجتماعات کے بجائے نماز گھر میں ادا کرنے کی حکومتی اپیل
پاکستان کی وازرتِ مذہبی امور نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے باعث جمعہ کے اجتماعات کے بجائے نماز گھر پر ادا کریں۔
وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان نے کہا ہے کہ نمازِ جمعہ اور مساجد میں نماز کی ادائیگی کے حوالے سے حکومت کے قواعد (ایس او پی) میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
جمعرات کی شب وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ترجمان عمران صدیقی نے کہا کہ عوام حکومتی قواعد اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے نمازِ جمعہ گزشتہ جمعے کی طرح مساجد کے بجائے گھروں پر ہی ادا کریں۔
یاد رہے کہ پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن کا اطلاق مساجد پر نہیں ہو گا اور اب مساجد میں باجماعت نماز ادا کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کی لاک ڈاؤن ختم کرنے کی گائیڈ لائنز جاری
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ریاستوں میں پابندیاں اٹھانے اور معمولاتِ زندگی بحال کرنے سے متعلق تین مراحل پر مشتمل گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بعض ریاستوں میں معلوماتِ زندگی فوری طور پر بحال ہو جائیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ تازہ ترین اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر اُن کی ماہرین کی ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں دوسرا قدم اٹھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم ملک کو کھولنے جا رہے ہیں۔"
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض ریاستیں کرونا وائرس کے اثرات سے محفوظ ہیں اور وہ کل ہی کھولی جا سکتی ہیں۔