رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

09:33 18.4.2020

نیویارک میں پاکستانیوں کی مدد کر رہے ہیں، قونصل جنرل عائشہ علی

عائشہ علی (فائل فوٹو)
عائشہ علی (فائل فوٹو)

نیویارک میں پاکستان کی قونصل جنرل عائشہ علی نے کہا ہے کہ ریاست نیویارک میں بڑی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی رہتی ہے اور وہ کرونا وائرس سے متاثر ہوئی ہے۔ نیویارک کا پاکستانی قونصل خانہ جس حد تک ممکن ہو سکتا ہے، اپنی کمیونٹی کی مدد کر رہا ہے۔

وائس آف امریکہ کے نیویارک میں نمائندے، انشومن آپٹے کو خصوصی انٹرویو میں قونصلر جنرل نے بتایا کہ پروازیں بند ہونے کی وجہ سے بہت سے پاکستانی امریکہ میں پھنس گئے ہیں۔

انھوں نے قونصل خانے سے رابطہ کرکے مالی تعاون طلب کیا تھا اور ان کی ضرورت کے مطابق سب کی فوری طور پر مدد کی گئی ہے۔ جب اور جیسے ہی لوگ ہم سے رابطہ کریں گے، ان کی مدد کی جائے گی۔ لوگ فون، انٹرنیٹ اور فیس بک پر بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔ لوگوں کی مدد کے لیے علیحدہ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

ان سے سوال کیا گیا کہ نیویارک میں کتنے پاکستانی کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ انھوں نے کوئی تعداد بتانے سے عذر کیا اور کہا کہ یہ بات امریکی انتظامیہ بہتر بتاسکتی ہے۔ جب وبا کی صورتحال ہو تو اس میں مقامی حکومت لوگوں کی جان بچانے میں مصروف ہوتی ہے۔ جب حالات بہتر ہوں گے تو امید ہے کہ امریکی انتظامیہ اور ریاست نیویارک کے حکام اس بارے میں معلومات سے آگاہ کریں گے۔

عائشہ علی نے کہا کہ تعداد اور اعداد و شمار کے بجائے اس وقت لوگوں کی مدد کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس وقت انسانی بحران ہے جس میں مل جل کر انسانیت کے کام آنا چاہیے۔ قونصل خانے نے بہت سے اقدامات کیے ہیں جن کی پہلے مثال نہیں ملتی۔

مزید پڑھیے

09:34 18.4.2020

کرونا وائرس سے اموات ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وائرس سے دنیا میں اموات ڈیڑھ لاکھ سے بڑھ گئی ہیں جب کہ امریکہ میں کیسز کی تعداد سات لاکھ اور یورپ میں دس لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق 210 ممالک اور خود مختار خطوں میں وبا کے مریضوں کی تعداد سوا 22 لاکھ اور ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 53 ہزار ہو چکی ہے۔

24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 847، فرانس میں 761، اٹلی میں 575، بیلجیم میں 306، اسپین میں 298، برازیل میں 194، جرمنی میں 151، نیدرلینڈز میں 144، ترکی میں 126 اور کینیڈا میں 115 مریض دم توڑ گئے۔ ایران میں 89 اور سویڈن میں 67 افراد چل بسے۔

امریکہ میں جمعہ کی شام تک 2305 افراد ہلاک ہو چکے تھے جس کے بعد اموات کی کل تعداد 37 ہزار تک پہنچ گئی۔ ملک میں اب تک کرونا وائرس کے 35 لاکھ ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں جن میں 7 لاکھ مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

چین میں 24 گھنٹوں کے دوران ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی، لیکن ووہان کے حکام نے کرونا وائرس سے ہلاکتوں میں ان 1290 اموات کو شامل کر لیا ہے جنھیں پہلے شمار نہیں کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے فرانس اور امریکی ریاست نیویارک میں بھی ہزاروں ایسی اموات کو مجموعی تعداد میں شامل کیا گیا تھا جو اسپتالوں میں نہیں ہوئی تھیں۔

مزید پڑھیے

13:08 18.4.2020

رمضان میں تراویح اور اجتماعات سے متعلق ایوانِ صدر میں اجلاس

کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پاکستان میں ماہ رمضان میں نماز تراویح اور بڑے اجتماعات کے انعقاد پر صدرِ پاکستان اور علما کی مشاورت جاری ہے۔

ایوانِ صدر سے ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس میں مساجد میں عبادات اور نماز تراویح سے متعلق حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔

اجلاس میں تمام صوبائی حکومتوں سے تجاویز طلب کر لی گئی ہیں۔ صدر عارف علوی نے مولانا فضل الرحمٰن، سراج الحق، رانا تنویر اور ساجد میر سمیت مخٹلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ٹیلیفون کرکے اعتماد میں بھی لیا۔

وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے علما اور حکومتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اجلاس میں ملک بھر سے علما کرام گورنر ہاؤسز سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کررہے ہیں۔

اجلاس کے آغاز میں صدر عارف علوی نے کہا کہ مسلمانوں کا مسجد کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ تعلق بھی برقرار رہے اور وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے احتیاط بھی کی جائے۔

صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ قومیں ڈسپلن سے بنتی ہیں۔ لہذٰا اس بیماری سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈسپلن بھی برقرار رہے اور عبادات بھی جاری رکھی جائیں۔

13:19 18.4.2020

کرونا سے مرنے والوں کی تدفین، 'خوف تو ہے پر یہ کام بھی تو کرنا ہے'

فائل فوٹو
فائل فوٹو

"کراچی میں 2015 میں گرمی کی شدید لہر (ہیٹ ویو) کے دوران تین روز میں سیکڑوں میتیں شہر کے قبرستانوں میں تدفین کے لیے لائی گئی تھیں۔ اس دوران صرف ہمارے قبرستان میں 15 گورکن مسلسل قبریں کھودنے اور مردے دفنانے میں لگے ہوئے تھے۔ لیکن جب تعداد بڑھنے لگی تو کھدائی کے لیے کرین کی مدد لی گئی تھی۔"

"وہ وقت خاصا مشکل تھا، لیکن گزر گیا۔ مگر اب جو کرونا کی وبا آئی ہے، اس وبا میں تدفین کرنے والے گورکن بھی خوف کا شکار ہیں۔" یہ کہنا ہے جاوید (فرضی نام) کا جو کراچی کے ایک قبرستان میں بطور گورکن کام کرتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کرونا وائرس سے جان کی بازی ہارنے والے چار افراد کی تدفین میں حصہ لیا ہے۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں اور اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ معالجین اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر مریضوں کے علاج میں مصروف ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کرتے اور لاک ڈاؤن پر عمل در آمد کراتے نظر آ رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اب بھی کئی ایسے لوگ ہیں جو اس وبا کی سنگینی کو نہیں سمجھ پا رہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG