رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:38 19.4.2020

کرونا وائرس کی دوا ڈھونڈنے میں آرٹیفیشل ٹیکنالوجی سے مدد

پاکستان کی یونیورسٹیوں کے ایک کنسورشیم کے سائنس دان جرمنی کی ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونخ اور پیڈربورن یونیورسٹی سے منسلک پاکستانی نزاد کمپیوٹر سائنس دانوں کے تعاون سے ایف ڈی اے سے منظور شدہ 24440 ادویات میں سے آٹھ ایسی ادویات کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جن کے کرونا وائرس کےخلا ف موثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ یہ تجربات کئی تیز رفتار اور طاقتور کمپیوٹرز کو بیک وقت استعمال کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جینس ٹیکنالوجی کی مدد سے کیے گئے۔

اس ٹیم میں علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور میں میڈیسن شعبے کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمّد زمان خان شامل ہیں جو کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے مائیکرو بائیولوجی کے شعبے سے بھی منسلک ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، " کسی بیماری کے علاج کے لئے نئی دوا کی دریافت سے لے کر FDA کی منظوری تک کا سفر کئی برسوں میں طے ہوتا ہے۔ جس دوران اس دوا کی افادیت کو جانچنے کیلئے پہلے جانوروں اور پھر انسانوں پر تجربات کیے جاتے ہیں اور مضر اثرات پر غور کیا جاتا ہے۔ ان تمام مراحل میں طے شدہ معیارات پر اترنے والی دوا ہی عام استعمال کے لئے منظور کی جاتی ہے۔

لیکن تیزی سے بگڑتی موجودہ صورت حال کرونا کے علاج کے لئے کسی نئی دوا کی دریافت اور جانچ کے ان طویل مراحل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جس کے پیش نظر ان دواؤں میں سے کسی موثر دوا کی تلاش کا فیصلہ کیا گیا جو کسی اور بیماری کے علاج کے لئے پہلے سے منظور شدّہ ہیں اور سال ہا سال سے استعمال کی جا رہی ہیں۔ ایک بیماری کیلئے منظور شدہ دوا کو کسی دوسری بیماری میں مفید استعمال کو Repurposing of drugs کہتے ہیں۔

مزید تفصیلات

12:13 19.4.2020

پاکستان میں تصدیق شدہ کیسز 7993 ہو گئے، 159 افراد ہلاک

پاکستان میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 7993 تک پہنچ گئی جب کہ 159 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 514 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس س مصدقہ مریضوں کی تعداد 7993 ہوگئی۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 7847 ٹیسٹ کیے گئے۔ اب تک مجموعی طور پر 98 ہزار 522 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جب کہ 1868 افراد اس بیماری سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔

حکومت کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ 3649 کیسز ہیں۔ سندھ میں 2355، خیبر پختونخوا 1137، بلوچستان 376، اسلام آباد میں 171جب کہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں 48 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کا شکار 16 افراد دم توڑ گئے۔

اب تک کے ریکارڈ کے مطابق خیبرپختونخوا میں کرونا سے سب سے زیادہ 60 اموات ہوئیں، سندھ میں 48، پنجاب میں 41، بلوچستان میں 5 ، گلگت بلتستان میں 3 جب کہ اسلام آباد میں کرونا کے 2 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔

13:17 19.4.2020

کرونا کے کنٹرول میں پاکستان کی مدد، شہباز شریف کا امریکی سفر کو خط

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کرونا کے کنٹرول میں پاکستان کی مدد اور تعاون پر امریکی سفیر پال جونز کا شکریہ ادا کیا ہے۔

شہباز شریف کی جانب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور سفیر پال ڈبلیو جونز کو جوابی خط لکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے نہ صرف انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں بلکہ انسانی سماج اور معاشرت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

شہباز شریف کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور روابط کہیں گہرے اور مضبوط ہیں جتنے بظاہر دکھائی دیتے ہیں۔

قائد حزب اختلاف نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کرونا کسی سرحد کو نہیں پہچانتا، تمام خطے اس کی تباہی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر کرونا کے خلاف تعاون کی جتنی آج ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہیں تھی۔

ان کے بقول صورت حال کا تقاضا ہے کہ امریکہ کرونا کے خلاف جنگ میں قائدانہ کردار ادا کرے۔

اِس سے قبل پاکستان میں امریکی سفیر پال جونز نے شہباز شریف کے نام لکھے گئے ایک خط کے ذریعے امریکہ کی جانب سے کرونا وائرس کے خلاف چوراسی لاکھ امریکی ڈالر کی امداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان کی صحت کے شعبہ میں مداد جاری رکھے گا۔

پال جونز نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ امریکہ کرونا وائرس کی تشخیص، ٹیسٹ اور علاج کے لیے پاکستان کو تین موبائل لیبارٹریاں فراہم کرے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں بھی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے لیے مالی مدد فراہم کرے گا۔

15:54 19.4.2020

بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن

<span dir="RTL">بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے </span><span dir="RTL">24 مارچ کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ہر ریاست، ہر ضلع، ہر گلی اور ہر گاؤں تین ہفتوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن 21 دن تک جاری رہے گا۔ اگر ان 21 دن میں احتیاط نہ کی گئی تو ملک اور عوام 21 سال پیچھے چلیں جائیں گے۔&nbsp; یہ اعلان ممبئی کی ایک کچی بستی میں رہنے والی مینا رمیش نے بھی ٹی وی پر سنا تھا لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن اس کے لیے کس قدر سخت ہوں گے۔ </span>
1/10 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 24 مارچ کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ہر ریاست، ہر ضلع، ہر گلی اور ہر گاؤں تین ہفتوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن 21 دن تک جاری رہے گا۔ اگر ان 21 دن میں احتیاط نہ کی گئی تو ملک اور عوام 21 سال پیچھے چلیں جائیں گے۔  یہ اعلان ممبئی کی ایک کچی بستی میں رہنے والی مینا رمیش نے بھی ٹی وی پر سنا تھا لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن اس کے لیے کس قدر سخت ہوں گے۔
<span dir="RTL">بھارتی عوام کو 21 دن کے لاک ڈاؤن کے لیے صرف 4 گھنٹے کا موقع دیا تھا جس کے بعد لاک ڈاؤن شروع ہوگیا۔ اس لاک ڈاؤن کے خاتمے سے پہلے ہی اس میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی۔ اس سے انتہائی غریب آبادی کے لیے بیک وقت کئی مسائل کھڑے ہوگئے۔ مینا اور اس کا خاندان ایسے افراد میں شامل ہے جن کی یومیہ آمدنی دو ڈالرز (150 ہندوستانی روپے) کے مساوی بھی نہیں۔</span>
2/10 بھارتی عوام کو 21 دن کے لاک ڈاؤن کے لیے صرف 4 گھنٹے کا موقع دیا تھا جس کے بعد لاک ڈاؤن شروع ہوگیا۔ اس لاک ڈاؤن کے خاتمے سے پہلے ہی اس میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی۔ اس سے انتہائی غریب آبادی کے لیے بیک وقت کئی مسائل کھڑے ہوگئے۔ مینا اور اس کا خاندان ایسے افراد میں شامل ہے جن کی یومیہ آمدنی دو ڈالرز (150 ہندوستانی روپے) کے مساوی بھی نہیں۔
<span dir="RTL">مینا اور اس کے خاندان کے پانچ افراد کے لیے 6 بائی 9 فٹ کے کمرے میں ساتھ رہنا، جن کے پاس کوئی کام نہیں، کسی قید سے کم نہیں۔</span>
3/10 مینا اور اس کے خاندان کے پانچ افراد کے لیے 6 بائی 9 فٹ کے کمرے میں ساتھ رہنا، جن کے پاس کوئی کام نہیں، کسی قید سے کم نہیں۔
مینا کا ایک بیٹا رہتک رمیش اس کے لیے خوشیوں کا باعث اور بڑھاپے کا واحد سہارا ہے۔ دن بھر ممبئی کی سڑکوں پر اپنے شوہر کے ہمراہ پلاسٹک کی سستی بالٹیاں اور ٹوکریاں فروخت کرکے جب وہ گھر واپس آتی تھی تو رہتک کی صرف ایک مسکراہٹ اس کی ساری تھکن دور کردیا کرتی تھی مگر اب کرونا کے سبب وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتی۔
4/10 مینا کا ایک بیٹا رہتک رمیش اس کے لیے خوشیوں کا باعث اور بڑھاپے کا واحد سہارا ہے۔ دن بھر ممبئی کی سڑکوں پر اپنے شوہر کے ہمراہ پلاسٹک کی سستی بالٹیاں اور ٹوکریاں فروخت کرکے جب وہ گھر واپس آتی تھی تو رہتک کی صرف ایک مسکراہٹ اس کی ساری تھکن دور کردیا کرتی تھی مگر اب کرونا کے سبب وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتی۔
لاک ڈاؤن کے سبب مینا کی یومیہ آمدنی بھی ختم ہوگئی ہے۔ بھارت کی معیشت گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی غربت دور ہوئی ہے لیکن مینا کے خاندان کے افراد ابھی بھی ایسے افراد میں شامل نہیں۔
5/10 لاک ڈاؤن کے سبب مینا کی یومیہ آمدنی بھی ختم ہوگئی ہے۔ بھارت کی معیشت گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی غربت دور ہوئی ہے لیکن مینا کے خاندان کے افراد ابھی بھی ایسے افراد میں شامل نہیں۔
لاک ڈاؤن سے پہلے اسے محلے والوں کی جانب سے مفت کھانا مل جایا کرتا تھا مگر اب یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔
6/10 لاک ڈاؤن سے پہلے اسے محلے والوں کی جانب سے مفت کھانا مل جایا کرتا تھا مگر اب یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔
<span dir="RTL">رپورٹس کے مطابق لاک ڈاؤن بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک امتحان ہے ۔ جس میں یہ سبق بھی شامل ہے کہ بنگلہ دیش سے نائیجیریا تک کے ممالک اپنے غریب ترین شہریوں کو بھی بدتر بھوک اور مزید بدحالی پر مجبور کیے بغیر کوویڈ 19 کا مقابلہ کر رہے ہیں۔</span>
7/10 رپورٹس کے مطابق لاک ڈاؤن بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک امتحان ہے ۔ جس میں یہ سبق بھی شامل ہے کہ بنگلہ دیش سے نائیجیریا تک کے ممالک اپنے غریب ترین شہریوں کو بھی بدتر بھوک اور مزید بدحالی پر مجبور کیے بغیر کوویڈ 19 کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
<span dir="RTL">بھارت کی حکومت کی جانب سے طویل لاک ڈاؤن کو </span><span dir="RTL">انسانی تاریخ کا انتہائی سخت معاشرتی تجربہ کہا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران صرف کھانا، ادویات یا دیگر اشیائے ضروریہ خریدنے کی اجازت ہے۔ کاروبار، تجارتی سرگرمیاں بند ہیں۔ اسکول کالج بھی کوئی نہیں جا رہا جب کہ کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں۔ اسے میں گھروں میں پانی اور ٹوائلٹ کی سہولت نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔</span>
8/10 بھارت کی حکومت کی جانب سے طویل لاک ڈاؤن کو انسانی تاریخ کا انتہائی سخت معاشرتی تجربہ کہا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران صرف کھانا، ادویات یا دیگر اشیائے ضروریہ خریدنے کی اجازت ہے۔ کاروبار، تجارتی سرگرمیاں بند ہیں۔ اسکول کالج بھی کوئی نہیں جا رہا جب کہ کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں۔ اسے میں گھروں میں پانی اور ٹوائلٹ کی سہولت نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مینا رمیش جاکھوڈیا کے شوہر رمیشن کو دور دراز کے علاقوں سے پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے جب کہ رفع حاجت کے لیے جنگلوں، میدانوں اور ریلوے لائنز کے قریب جانا پڑتا ہے۔ خواتین دن میں رفع حاجت کے لیے گھروں سے نہیں نکل سکتیں اور صرف رات کو ہی محفوظ مقامات پر جا پاتی ہیں جس سے اکثر خواتین بیمار ہو جاتی ہیں۔
9/10 مینا رمیش جاکھوڈیا کے شوہر رمیشن کو دور دراز کے علاقوں سے پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے جب کہ رفع حاجت کے لیے جنگلوں، میدانوں اور ریلوے لائنز کے قریب جانا پڑتا ہے۔ خواتین دن میں رفع حاجت کے لیے گھروں سے نہیں نکل سکتیں اور صرف رات کو ہی محفوظ مقامات پر جا پاتی ہیں جس سے اکثر خواتین بیمار ہو جاتی ہیں۔
<span dir="RTL">بھارت میں جہاں لاکھوں لوگوں کے لیے معاشرتی دوری ناممکن ہے، وہاں خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن شہروں اور دیہاتوں کے لیے تباہی کا سبب نا بن جائے۔ مثلاً ممئی میں ایک مربع میل میں 77 ہزار افراد رہتے ہیں یہ شرح نیو یارک سٹی سے تقریبا 3 گنا زیادہ ہے۔ لوگ اپنی صحت پر خرچ کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ طبی نظام ملک کے بہت سارے حصوں میں بمشکل ہی کام کرتا ہے۔ بڑے شہروں سے باہر سرکاری اسپتالوں تک عوام کی رسائی محدود ہے۔ اسپتالوں میں صفائی کا مناسب انتظام نہیں جب کہ دیہات میں تیسرے درجے کے ڈاکٹرز ہی دستیاب ہوتے ہیں لہذا کرونا وائرس کے متاثرین ایسے بھی کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔</span>
10/10 بھارت میں جہاں لاکھوں لوگوں کے لیے معاشرتی دوری ناممکن ہے، وہاں خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن شہروں اور دیہاتوں کے لیے تباہی کا سبب نا بن جائے۔ مثلاً ممئی میں ایک مربع میل میں 77 ہزار افراد رہتے ہیں یہ شرح نیو یارک سٹی سے تقریبا 3 گنا زیادہ ہے۔ لوگ اپنی صحت پر خرچ کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ طبی نظام ملک کے بہت سارے حصوں میں بمشکل ہی کام کرتا ہے۔ بڑے شہروں سے باہر سرکاری اسپتالوں تک عوام کی رسائی محدود ہے۔ اسپتالوں میں صفائی کا مناسب انتظام نہیں جب کہ دیہات میں تیسرے درجے کے ڈاکٹرز ہی دستیاب ہوتے ہیں لہذا کرونا وائرس کے متاثرین ایسے بھی کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
Previous slide
Next slide

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG