امریکہ میں پابندیوں کے خلاف احتجاج
امریکہ کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں سیکڑوں افراد نے کرونا وائرس کے باعث عائد پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کیا جب کہ کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
مسلمان رمضان میں عبادات گھروں میں کریں: سعودی علما کونسل
سعودی عرب کی اعلیٰ ترین مذہبی ادارے اور سینئر علما کی کونسل 'مجلس ہیئۃ الکبار العلما' نے زور دیا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں موجود مسلمان کرونا وائرس کے باعث درکار سماجی دوری کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے رمضان کے مہینے میں عبادات اپنے گھروں میں کریں۔
سینئر علما کی کونسل نے مزید کہا ہے کہ مسلمانوں کو اجتماعات سے گریز کرنا چاہیے۔ کیوں کہ زیادہ افراد کے جمع ہونے سے ہی وبا تیزی سے پھیلتی ہے۔
کونسل کا کہنا ہے کہ یاد رکھنا چاہیے کہ دیگر انسانوں کی جان بچانا ہی ایک بڑا کام ہے جس سے وہ اپنے خدا کے مزید قریب ہو سکتے ہیں۔
کیا موجودہ حالات میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کرنا مناسب ہے
نیو یارک سٹی یونیورسٹی میں Community and Ethnic media کے کو ڈائریکٹر اور تجزیہ کار جہانگیر خٹک کہتے ہیں کہ یہ سب کے لئے ایک مشکل فیصلہ ہے۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ محفوظ انداز میں بتدریج لاک ڈاؤن ختم کیا جائے تاکہ معیشت چل سکے اور انتخابی سال کے دوران بے روزگاری بڑھنے نہ پائے۔ جب کہ وہ ریاستیں جہاں حالات بدستور خراب ہیں جیسے نیو یارک ہے وہ اس فیصلے کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھانا نہیں چاہتیں جب تک کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے ماہرین اور ذمہ دار مطمئن نہ ہو جائیں۔
انہوں نے کہا یہ دوہری مشکل ہے۔ امریکہ معیشت کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اور دوسری جانب لاک ڈاؤن ختم کرنے کے خطرات کی سنگینی سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
انہوں کہا کہ اس سلسلے میں کسی صحیح نتیجے ہر پہنچنے کے لئے سیاست کی بجائے ڈیٹا سائنس اور میڈیکل سائنس سے رہنمائی حاصل کی جانی چاہئے۔ اور انہی کے پیش کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جانا چاہئے۔
لیبارٹری میں کرونا وائرس کی تیاری کا الزام سازشی نظریہ ہے، چین
کرونا وائرس جانوروں سے انسانوں کو لگا یا چین کی لیبارٹری میں اسے تیار کیا گیا، یا کہیں اور اس کا تجربہ کیا گیا۔ اس بارے میں چین اور امریکہ کے درمیان الزامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔
چین کے شہر ووہان میں قائم نیشنل بائیو سیفٹی لیب کے ڈائریکٹر یوان زیمنگ نے شدت سے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا منبع ان کی لیبارٹری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اسے ناممکن اور سازشی نظریہ قرار دے دیا۔
چین کے انگریزی زبان کے نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے چینی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں کے موقف کی مطابقت میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وائرس کے انسٹی ٹیوٹ آف وائرلوجی میں یعنی جرثوموں پر کام کرنے والے ادارے، خاص طور پر اس کی 'پی فور' لیباریٹری سے نکلا ہو، جو خطرناک وائرسوں پر کام کرتی ہے۔