کیا امریکہ میں حفاظتی طبی سامان کی قلت چین کو اس کی بھاری درآمد سے ہوئی؟
اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق لاکھوں ڈالر مالیت کے ماسک اور طبی حفاظتی سامان ایک ایسے وقت میں امریکہ سے چین کو برآمد کر دیا گیا، جب کرونا وائرس کے امریکہ اور دنیا کے لیے خطرات بڑھ رہے تھے۔
اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس اس بات سے غافل رہا کہ کہ کرونا وائرس امریکہ اور پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے اور ان چیزوں کی امریکہ کے اندر ضرورت پڑ سکتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ یہ اجازت ٹرمپ انتظامیہ کی اس ناکامی کا اظہار ہے کہ اس نے اس عالم گیر وبا کے خطرے کو نہیں بھانپا اور نہ اس کے لیے مناسب تیاری کی۔
اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے اس نے یہ اطلاعات حکومت کے اندرونی اقتصادی جائزہ مواد سے حاصل کیں ہیں۔ اخبار کے مطابق جنوری اور فروری میں اس طرح کے سامان کی برآمد ایک سال قبل کے انہیں مہینوں کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار گنا زیادہ تھی۔ یعنی یہ برآمدات 14 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر ایک کروڑ 76 لاکھ ڈالر پر پہنچ گئیں۔
سیوریج میں کرونا وائرس کی موجودگی کے شواہد مل گئے
آسٹریلیا میں اب تک کرونا وائرس کے تقریباً ساڑھے چھ ہزار کیسز سامنے آئے ہیں اور 79 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
سڈنی سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار فل مرسر نے خبر دی ہے کہ آسٹریلیا کے تحقیق کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سیوریج کے پانی کو ٹسٹ کر کے کرونا وائرس کے پھیلنے کا پیشگی اندازہ لگایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
آسٹریلیا کی ریاست کوئینز لینڈ کے گندے پانی کے دو پلانٹس سے پانی نکال کر جب ٹسٹ کیا گیا تو اس میں اس مرض کے جینیاتی ذرات ملے ہیں۔ اسی بنیاد پر آسٹریلوی سائنس دان مزید تحقیق کر رہے ہیں۔
کوئینز لینڈکی یونی ورسٹی کے محقق پروفیسر کے ون تھامس کا خیال ہے کہ اس طرح کے تجربات سے ہمیں یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ وائرس کس طرح پھیلتا ہے اور اس کو کس طرح روکا جا سکتا ہے۔ پروفیسر تھامس کا کہنا ہے کہ دیگر روایتی تجربات کے ساتھ آلودہ پانی کا ٹسٹ بھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے ، کیوں کہ اس سے ہمیں یہ معلوم ہو سکے گا کہ ابتدائی طور یہ کیسے پھیلا۔
پاکستان میں ہلاکتوں کی تعداد 176 ہو گئی
- By سدرہ ڈار
لاک ڈاؤن متاثرین کے لیے گھر کا پکا ہوا کھانا
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث لاک ڈاؤن کئی افراد کے روزگار کی بندش کا سبب بن گیا ہے۔ ایسے میں بہت سی فلاحی تنظیمیں متاثرین کو راشن فراہم کر رہی ہیں۔ لیکن کراچی کی ایک فیملی نے اس سے بھی زیادہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ یہ خاندان کیسے اُن لوگوں کی مدد کر رہا ہے؟ دیکھیے سدرہ ڈار کی اس رپورٹ میں