بلوچستان میں کرونا کیسز کی تعداد میں اضافہ
بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے پیر کو وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ صوبے میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کی وجہ مشتبہ افراد کے ٹیسٹ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں کرونا وائرس کے مشتبہ افراد کے ٹیسٹ شروع ہو گئے ہیں۔ روانہ کی بنیاد پر پچاس سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اب تک صوبے میں 5315 کرونا کے مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 432 کا نتیجہ مثبت آیا ہے جب کہ 5793 مزید مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
کرونا وائرس کے شکار افراد کا تعلق کوئٹہ، مستونگ، جعفر آباد، چمن اور سبی سے ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ایران سے بلوچستان آنے والے کرونا متاثرین کی تعداد 145 ہے جب کہ مقامی سطح پر 287 افراد اس وبا کا شکار ہوئے ہیں۔
جرمنی میں دکانیں کھلنا شروع
یورپی ملک جرمنی میں کرونا وائرس کے سبب نافذ کردہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے کچھ دکانیں کھول دی گئی ہیں۔
یورپی ممالک اٹلی، اسپین اور فرانس میں کرونا وائرس کے سبب ایک دن میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے جس کے بعد ان ملکوں نے پابندیوں میں نرمی پر غور شروع کر دیا ہے۔
جرمنی نے پیر کو بعض دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی ہے جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف شہروں میں بڑی دکانیں بھی جلد کھول دی جائیں گی۔
جرمنی میں چار مئی سے اسکول بھی کھول دیے جائیں گے۔ جرمنی کو یورپ میں کرونا وائرس پر قابو کرنے والا سب سے کامیاب ملک قرار دیا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ رمضان کی روایتی رونقوں اور سرگرمیوں سے خالی ہو گا
مشرق وسطیٰ اس بار ماہِ رمضان کی روایتی رونقوں اور سرگرمیوں سے خالی ہو گا۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر نہ تو افطار پارٹیاں ہو سکیں گی اور نا ہی مساجد میں باجماعت نماز۔
مشرق وسطیٰ میں اگلے ہفتے سے اسلامی مہینہ رمضان شروع ہونے والا ہے۔ اس ماہ کو مقدس ترین مہینہ تصور کیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں آباد تمام مسلمان ماہِ رمضان میں طلوعِ فجر سے غروب آفتاب تک تمام دن کچھ نہیں کھاتے پیتے جب کہ شام کو افطار کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
لیکن اس سال تیزی سے پھیلتی کرونا وائرس کی وبا نے سعودی عرب اور لبنان سے لے کر لیبیا اور عراق و یمن کے جنگی علاقوں تک سب جگہ رمضان کی روایت و سرگرمیوں کو محدود سے محدود تر کر دیا ہے۔