- By ضیاء الرحمن
کرونا وائرس سے پنجاب کے 5 شہر سب سے زیادہ متاثر
محکمۂ صحت پنجاب کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے پانچ شہر لاہور، راولپنڈی، گجرات، گوجرانوالہ اور جہلم میں کرونا کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور مستقبل میں بھی انہی شہروں میں مریضوں کی تعداد مزید برھنے کا خدشہ ہے۔
صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے صوبے بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم پانچ شہروں میں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد زیادہ ہے اور مستقبل میں یہی شہر مین 'ہاٹ اسپاٹ' ہوں گے۔
اُن کے بقول جہلم، گوجرانولہ اور جہلم میں کرونا وائرس بیرونِ ملک سے آنے والے افراد کے ذریعے پھیلا ہے۔
سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ اسکینڈری ہیلتھ پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان یونس نے بتایا کہ رائے ونڈ کے علاوہ کسی بھی علاقے کے رہائشیوں کی کوئی ٹریول ہسٹری سامنے نہیں آئی ہے۔
صوبے بھر میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 3721 ہے۔
'کھربوں روپے خرچ کر دیے، کرونا مریضوں کی تعداد صرف پانچ ہزار ہے'
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ عوام اور بیرونِ ملک سے لیا گیا پیسہ نہ جانے کہاں اور کیسے خرچ ہو رہا ہے۔ کھربوں روپے خرچ کر دیے گئے ہیں اور مریضوں کی تعداد صرف پانچ ہزار ہے۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کرونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ اُس موقع پر صوبوں کے ایڈووکیٹس جنرلز نے عدالت کو اقدامات سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ محکمہ زکوٰة نے کوئی معلومات نہیں دیں۔ جواب میں صرف قانون بتایا گیا ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل خالد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت زکوٰة فنڈ صوبوں کو دیتی ہے۔ صوبائی حکومتیں زکوة مستحقین تک نہیں پہنچاتیں۔ اس فنڈ کا بڑا حصہ تو انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے۔
اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کام میں شفافیت نہیں۔ صرف یہ بتایا گیا کہ امداد دی گئی لیکن تفصیلات نہیں دی گئیں۔ کسی صوبے اور محکمے نے شفافیت پر مبنی رپورٹ نہیں دی۔ عوام اور بیرون ملک سے لیا گیا پیسہ نہ جانے کیسے خرچ ہو رہا ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے زکوٰۃ کے مصرف سے متعلق مفتی تقی عثمانی سے شرعی رائے طلب کر لی ہے کہ آیا بیت المال اور زکوٰة فنڈ انتظامی کاموں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے یا نہیں۔
- By سہیل انجم
بھارت: کرونا وائرس کی آڑ میں کیا مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کرونا وائرس حملہ کرنے سے قبل مذہب، ذات برادری، رنگ، نسل، قومیت اور سرحد نہیں دیکھتا۔
اس کے ساتھ ہی نریندر مودی نے وبا کے خلاف لڑائی میں عوام سے متحد ہونے کی اپیل کی۔
وزیر اعظم کا یہ بیان اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں او آئی سی نے بھارتی مسلمانوں کو وبا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دینے کی ہندو نواز عناصر کی مبینہ مہم کی مذمت کی تھی۔
او آئی سی نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔
او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ نے سیاسی حلقے، مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جہاں مسلمانوں کو کرونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے، مسلم مخالف رجحان کی رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
لڑکیوں کے جنسی بنیادوں پر شدید متاثر ہونے کا خدشہ
اقوام متحدہ کے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کے باعث نقل مکانی کرنے والے بے وطن افراد میں شامل لڑکیوں کے کرونا وائرس سے جنسی بنیادوں پر شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق پناہ گزین، بے دخل اور بے وطن ہونے والی عورتوں اور لڑکیوں کو اس وبا کے دوران شدید خطرات لاحق ہیں۔
یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے خطرہ سب سے زیادہ ہونے کے باعث اس سلسلے میں بھر پور کوششوں کی ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔
ادارے کے مطابق کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن، نقل و حرکت کی پابندیوں اور دیگر بندشوں کے باعث اس بات کا امکان ہے کہ خاندان لڑکیوں کو زندہ رہنے کے لیے جسم فروشی اور کم عمری کی شادیوں پر مجبور کرنے لگیں۔
مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے تمام ممالک کی حکومتوں کو اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ گزین عورتوں اور لڑکیوں کو زیادتی کے بڑھتے ہوئے خدشات سے بچانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں خصوصی خدمات کا شعبہ تشکیل دیا جائے جو صنفی بنیادوں پر ہونے والی کسی ممکنہ زیادتی پر فوری کارروائی کر سکے۔