رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:41 20.4.2020

افغانستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ

افغان وزارت صحت نے کہا ہے کہ افغانستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وزارت صحت کے مطابق 110 نئے متاثرہ مریضوں میں 20 افغان ڈاکٹر اور صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کارکن بھی شامل ہیں۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر واحد اللہ مایار نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ افغانستان میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 1026 ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کابل 333 اور ہرات 334 مریضوں کے ساتھ سر فہرست ہیں۔ مزید تین اموات کے ساتھ اب تک کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 36 ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک 135 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

18:47 20.4.2020

متعدد ممالک میں جاری لاک ڈاؤن میں نرمی

دنیا کے متعدد ممالک نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

جرمنی میں حکام نے کچھ اسٹورز کو پیر سے کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم سماجی فاصلے کی پابندی برقرار رکھی جا رہی ہے۔

البانیہ میں بھی کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ماہی گیری کے لیے کشتیوں اور فوڈ پراسیسنگ کے کاروبار بھی اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔

سری لنکا نے ملک کے دو تہائی حصے میں کرفیو اٹھا لیا ہے جب کہ باقی ایک تہائی حصے میں لاک ڈاؤن بدھ کو ختم کر دیا جائے گا۔

ناروے میں طلبہ اسکولوں میں آج سے واپس آ رہے ہیں جب کہ ڈنماک میں اسکول بدھ سے کھلیں گے۔

نیوزی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی 27 اپریل سے لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہا ہے۔

ویر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ کچھ پابندیاں دو ہفتے کے لیے اٹھائی جا رہی ہیں۔ جس کے بعد صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے بھی بعض پابندیوں کو نرم کرتے ہوئے محتاط رویہ اپنانے کی ہدایت کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس نے مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو نرم کرنے کے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں مرحلہ وار طریقے سے نرم کی جائیں۔

03:08 21.4.2020

ایکواڈور میں سڑکوں پر لاشیں کیوں پڑی ہیں؟

براعظم جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں سرکاری حکام کے مطابق پیر تک کرونا وائرس سے 474 اموات ہوئی تھیں۔ لیکن ان میں وہ ہزاروں افراد شامل نہیں جو گھر پر انتقال کر گئے۔

خبر ایجنسیوں نے ایسی متعدد تصاویر جاری ہیں جن میں سفید چادروں میں لپٹی ہوئی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں۔

ایکواڈور کے صوبے گوایاس کی مقامی حکومت نے بتایا ہے کہ عام طور پر ایک مہینے میں دو ہزار اموات ہوتی ہیں، لیکن مارچ سے اب تک ساڑھے 14 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ مرنے والوں کی تدفین میں اتنی تاخیر ہو رہی ہے کہ لوگوں کو اپنے پیاروں کی لاشیں کئی کئی دن گھر میں رکھنا پڑ رہی ہیں۔

مزید پڑھیے

03:13 21.4.2020

کرونا وائرس سے پشاور میں اموات زیادہ کیوں؟

ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے زیادہ مریضوں کا تعلق خیبر پختونخوا اور صوبے میں سب سے زیادہ پشاور سے ہے۔

پیر کی شام تک حکام کے بقول ملک بھر میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 176 تھی، جب کہ ان میں 67 کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کی تنظیم کے سربراہ رضوان کنڈی کے مطابق زیادہ تر ہلاکتوں کی وجہ عوام بالخصوص مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی جانب سے حکومت اور ڈاکٹروں کے ساتھ عدم تعاون ہے۔ اسی طرح صوبے کی زیادہ تر آبادی کا انحصار بھی پشاور ہی کے اسپتالوں پر ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ تر اموات بھی پشاور ہی میں سامنے آتی ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG