تیل مفت اور گھر لے جانے کے پیسے الگ لیجیے
پوری دنیا میں لاک ڈاؤن ہے اور کاروبار کا پہیہ نہیں چل رہا۔ سعودی عرب اور روس مستقبل قریب میں پیداوار کم کرنے پر راضی ہو گئے ہیں لیکن اس وقت مارکیٹ میں اضافی تیل موجود ہے۔ اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟
اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ امریکہ میں تیل کی قیمت گرتے گرتے اس مقام پر آ گئی ہے کہ پیداواری کمپنیاں اپنے صارفین کو تیل وصول کرنے کے لیے پیسے دینے کو تیار ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار تیل کا نرخ منفی ہو گیا ہے۔
پیداواری کمپنیوں کی گھبراہٹ بے وجہ نہیں ہے۔ امریکہ میں تیل ذخیرہ کرنے کے مقامات بھرتے جا رہے ہیں اور اپریل کے آخر تک تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہوں گے۔ اس کے بعد ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ تیل رکھنے کی جگہ نہیں ہو گی۔
- By علی عمران
پابندیوں میں نرمی سے پہلے کرونا وائرس کی وسیع تر ٹیسٹنگ ضروری
امریکہ سمیت کئی ممالک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ اقتصادی سرگرمیوں کی بتدریج بحالی کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کچھ رہنما اصول جاری کیے جن کے تحت امریکی ریاستیں ایسی جگہوں پر جہاں کرونا وائرس کے کیسز پر قابو پایا جا چکا ہے، وہاں صحت عامہ کے مناسب اقدامات کے بعد آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کی حفاظتی پابندیاں نرم کی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں جب کہ کووڈ 19 کے لیے کوئی، دوا یا ویکسین دستیاب نہیں، معمول کی زندگی کی طرف جانے کے لیے دو عوامل بہت اہم ہوں گے، یعنی سوشل ڈسٹینسنگ کی پابندی اور بڑے پیمانے پر میں ٹیسٹنگ کرنے کی صلاحیت۔
یورپ میں کرونا وائرس سے اموات ایک لاکھ ہوگئیں
کرونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں میں کمی نہیں آ رہی اور صرف یورپ میں اموات کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ امریکہ میں کیسز کی تعداد لگ بھگ 8 لاکھ اور اموات کی تعداد تقریباً 42 ہزار ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق پیر کی سہ پہر تک 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 24 لاکھ 70 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار ہو چکی ہے۔
24 گھنٹوں کے دوران فرانس میں 547، اٹلی میں 454، برطانیہ میں 449، اسپین میں 399، برازیل میں 383، بیلجیم میں 145 اور ترکی میں 123 مریض دم توڑ گئے۔ کینیڈا میں 93، ایران میں 91، آئرلینڈ میں 77، نیدرلینڈز میں 67 اور جرمنی میں 64 افراد چل بسے۔
- By زبیر ڈار
بھارتی کشمیر: خاتون صحافی کے خلاف تصویریں شیئر کرنے پر مقدمہ
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں خاتون صحافی پر ملک دشمنی اور اشتعال انگیزی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مسرت زہرا نے حال ہی میں تین تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔ اِن تصویروں میں حالات کی منظر کشی کی گئی تھی۔ کشمیر کی صحافی تنظیموں نے مقدمے کے اندراج کو آزادیٔ اظہار پر حملہ قرار دیا ہے۔