بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو 25 کروڑ افراد کو قحط کی صورت حال درپیش ہوگی: رپورٹ
خوراک کے عالمی پروگرام، فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن اور چودہ دوسرے اداروں کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے اقتصادی اثرات کے سبب دنیا بھر میں پچیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کو بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لیزا شلائن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عالمی اداروں کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وبا سے پہلے کوئی ساڑھے تیرہ کروڑ لوگوں کو دنیا بھر میں خوراک کی شدید قلت اور سخت نوعیت کی بھوک کا سامنا ہے۔
لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اس سلسلے میں فوری اور مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو سال کے اختتام تک یہ تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق، اس کے اسباب دنیا کے مختلف حصوں میں ہونے والے تصادم، ماحولیات کی تبدیلی اور اقتصادی بحران ہیں اور اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا بر اعظم افریقہ ہے جس کے بعد ایشیا اور پھر لاطینی امریکہ ہیں۔
افغانستان: 'کرونا جیلوں تک پہنچ گیا تو امن معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے'
افغان حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کرونا وائرس کی وبا افغانستان کی جیلوں تک پہنچ گئی تو امریکہ کی قیام امن کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
افغانستان کی جیلوں میں ہزاروں طالبان قیدی موجود ہیں جنہیں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت رہا کیا جانا ہے۔
لیکن افغان حکام کو خدشہ ہے کہ جیلوں میں کرونا وائرس پھیلنے کی صورت میں ان قیدیوں کی رہائی تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے جس کا لامحالہ اثر ملک میں قیامِ امن کی کوششوں پر پڑے گا۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیلوں میں وائرس پھیلنے کی صورت میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاملہ بھی مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے جس کے بعد بین الافغان مذاکرات بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
کرونا وائرس کے باعث امریکہ کے بیشتر سفارت کار سماجی پابندیوں پر عمل کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے گزشتہ دنوں طالبان کے سیاسی دفتر دوحہ میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں اور کیسز میں مسلسل اضافہ