آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے عملے کو سپر مارکیٹ میں کام کرنے کا مشورہ
آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈ نے اپنے عملے کو کرونا وائرس شٹ ڈاؤن کے دوران سپر مارکیٹس میں کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بورڈ کے چیف ایگزیکٹو کیون رابرٹس کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپر مارکیٹ کی سب سے بڑی چین 'ولورتھس' سے درخواست کی ہے کہ بورڈ ملازمین کو عارضی ملازمتیں دی جائیں۔
آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث 80 فی صد عملہ 20 فی صد تنخواہ پر کام کر رہا ہے۔ لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ اُنہیں متبادل روزگار ملے۔
اسپین میں مئی کے تیسرے ہفتے میں پابندیوں میں نرمی کا امکان
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سنچیز نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ملک میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں مئی کے تیسرے ہفتے میں اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے پیڈرو سنچیز نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں توسیع کی منظوری کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ پابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کیا جائے گا تو انہیں مرحلہ وار طریقے سے اٹھایا جا سکے گا۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ کاروبار اور عوامی زندگی پر عائد پابندیاں فوری طور پر اٹھانے کی بجائے انہیں مرحلہ وار طریقے سے اٹھانا ضروری ہو گا کیوں کہ فوری طور پر پابندیاں ختم کرنے سے کرونا وائرس کی وبا دوبارہ زور پکڑ سکتی ہے۔
اسپین ان ممالک میں شامل ہے جو کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
ملک میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد دو لاکھ آٹھ ہزار ہے جب کہ اس وبا سے کم سے کم 21 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
لبنان میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں وبا کی تصدیق
اقوام متحدہ کی ریلیف این ورکس ایجنسی نے مشرقی لبنان میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں کرونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق کی ہے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ مریض شام سے آنے والی ایک فلسطینی خاتون ہیں۔
وبا سے متاثرہ خاتون کو بیروت کے ایک اسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق وہ ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم کو کیمپ میں بھجوا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پناہ گزینوں کے ٹیسٹ کیے جا سکیں۔
دوسری جانب حکام نے کیمپ میں لاک ڈاؤن کر دیا ہے۔
عام فلو کے سیزن میں کرونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ
امریکہ میں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے خبردار کیا ہے کہ اس سال عام فلو کے سیزن میں کرونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ ہے ۔
رابرٹ ریڈ فیلڈ کے مطابق اس وقت اس سے نمٹنا زیادہ مشکل ہو گا۔
خیال رہے کہ امریکہ اور چین کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین اگلے سال کے آغاز پر ہی دستیاب ہو سکے گی۔