رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:40 22.4.2020

امریکی ایوان نمائندگان: ووٹ کے لیے دوسرے رکن کو نامزد کرنے کی قرارداد

امریکہ کے ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی ایک ایسی قرار داد پر بحث کر رہی ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ قانون سازوں کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنا ووٹ دینے کے لیے کسی دوسرے رکن کو نامزد کر سکیں اور کمیٹیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ آن لائن میٹنگز کر سکیں۔

اس قرارداد کا مقصد کرونا وائرس جیسی وبا کی صورت میں ایوان کے معمولات میں لچک پیدا کرنا ہے۔ خیال رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بڑے اجتماعات اور اجلاسوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قرار داد کے مطابق ایوان نمائندگان کے اسپیکر کو پہلے یہ اعلان کرنا ہو گا کہ وبا کی وجہ سے ہنگامی صورت حال ہے جس کا اطلاق 40 روز تک ہو گا۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران یہ ممکن ہے کہ کوئی بھی رکن ایک مراسلے میں تحریر کرے کہ ان کی جگہ ایک دوسرے رکن ووٹ دیں گے جس کے لیے مخصوص ہدایات جاری کی جائیں گی۔ اس نوعیت کی نامزدگیوں کو کسی بھی وقت تبدیل یا ختم کیا جا سکے گا۔ اور اس کی فہرست کلرک کے پاس ہو گی۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ مختلف کمیٹیوں کے اجلاس کے لیے ایوان اور سینیٹ کے ارکان باہر رہتے ہوئے شریک ہو سکیں گے اور قانون ساز ووٹ دے سکیں گے۔

20:07 22.4.2020

سینئر ڈاکٹروں کا پاکستان میں لاک ڈاؤن سخت کرنے کا مطالبہ

پاکستان کے سینئر ڈاکٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بجائے اسے مزید سخت کیا جائے۔

کراچی پریس کلب میں انڈس اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے قیصر سجاد، عاطف حفیظ اور دیگر کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں 26 فروری کو کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سندھ میں جزوی لاک ڈاؤن 18 مارچ سے کیا گیا لیکن 14 اپریل کو لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو کیسز کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی اور ڈاکٹرز سمیت پیرا میڈیکل عملہ بھی کرونا کا شکار ہونے لگا۔ صرف سندھ میں اب تک 162 ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کرونا کا سے متاثر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پانچ دن میں مریضوں میں 40 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ یہ خام خیالی ہے کہ ملک میں یہ مرض نہیں ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ کیسز کی تعداد مزید بڑھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب کہیں سنجیدہ لاک ڈاؤن نظر نہیں آ رہا۔ ہر جگہ لوگوں کا رش ہے۔ ہم صرف مساجد ہی نہیں ہر جگہ رش نہ لگانے پر زور دے رہے ہیں۔ لوگ زیادہ جمع ہوں گے تو وبا تیزی سے پھیلے گی۔

مزید جانیے

02:35 23.4.2020

دبئی میں تارکین وطن کی تنہائی میں موت

متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں میں کام کرنے والے تارکین وطن کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد تنہائی میں انتقال کررہے ہیں۔

اگر کوئی شخص کرونا وائرس کے باعث انتقال کر جائے تو اس کی میت اس کے گھر والوں تک نہیں پہنچائی جا سکتی۔ سرحدوں کی بندش و فلائٹ آپریشن کی معطلی کے سبب اس کے لواحقین بھی آخری دیدار کے لیے نہیں آ سکتے۔ لہٰذا عملے کے چند ارکان ہی ان کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق کچھ دن قبل متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک بھارتی شہری کرونا وائرس سے ہلاک ہو گیا تھا۔ انتظامیہ نے اس کی میت کو دوستوں یا رشتے داروں کے انتظار میں رکھا کہ شاید آخری دیدار کے لیے اس کا کوئی عزیز آ جائے۔

لیکن کئی گھنٹے انتظار کے باوجود بھی کوئی اسے دیکھنے نہیں آیا تو بلآخر حفاظتی سوٹ میں ملبوس عملے نے ہی آخری رسومات ادا کیں۔ عملے نے میت کو سفید رنگ کے پلاسٹک بیگ میں لپیٹ کر ایک برقی بھٹی کے حوالے کر دیا تھا جس نے اسے لمحوں میں ہی راکھ میں بدل دیا۔

دبئی میں ہندو مت کے پیروکار بھارتی شہریوں کی آخری رسومات صحرائی علاقے میں واقع ایک شمشان گھاٹ میں ادا کی جا رہی ہیں۔

خلیجی ممالک میں اب تک کرونا وائرس کے 26 ہزار 600 سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں اور اس وبا سے 166 اموات ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ غیر ملکی ہیں اور بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور فلپائن سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔

02:40 23.4.2020

بھارت میں طبی عملے پر حملہ کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا آرڈیننس

بھارت میں کرونا وائرس سے نمٹنے والے طبی عملے اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے والوں کو سات سال تک سزا دی جا سکے گی۔ اس حوالے سے بھارت کی حکومت نے ایک آرڈیننس بھی جاری کردیا ہے۔

آرڈیننس کے تحت اگر کوئی شخص ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف یا پولیس ٹیم پر حملہ کرے گا تو اسے جرمانہ اور سات سال تک جیل ہو سکتی ہے۔ یہ آرڈیننس ایک صدی پرانے 'ایپیڈیمک ایکٹ' میں ترمیم کرکے لایا گیا ہے۔

اس آرڈیننس کے تحت معمولی کیسیز میں تین ماہ سے پانچ سال تک کی جیل اور 50 ہزار سے لے کر دو لاکھ روپے تک کا جرمانہ کیا جائے گا۔ سنگین کیسز میں چھ ماہ سے لے کر سات سال تک کی جیل ہو گی اور ایک لاکھ سے لے کر سات لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔

اگر کسی حملے میں صحت ورکر کی گاڑی یا کلینک کو نقصان پہنچتا ہے تو ملزم پر تباہ کی جانے والی چیز کے مارکیٹ ریٹ سے دو گنا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ جس شخص کا نقصان ہو گا اسے معاوضہ دیا جائے گا۔

یہ آرڈیننس انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو تحفظ دینے کے مطالبے کے ایک روز بعد لایا گیا ہے۔ ایسو سی ایشن نے 23 اپریل کو بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا تھا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG