پاکستان میں ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کے 253 افراد کرونا کا شکار ہوئے
پاکستان میں وزارتِ صحت نے کرونا وبا کی وجہ سے اب تک متاثر ہونے والے ہیلتھ ورکرز کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
ملک بھر میں اب تک 124 ڈاکٹرز، 39 نرسز اور 90 ہیلتھ کیئر ورکرز کرونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ اب تک تین ہیلتھ ورکرز ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان ہیلتھ ورکرز میں سے 92 آئسولیشن اور 125 اسپتالوں میں زیرِ علاج جب کہ 33 مریضوں کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
پنجاب میں سب سے زیادہ 53 ڈاکٹرز، 12 نرسز اور 18 ہیلتھ کیئر اسٹاف کرونا وائرس کا شکار ہوئے۔ جن میں سے اس وقت 14 افراد آئسولیشن،61 اسپتالوں میں زیرِ علاج آٹھ کو ڈسچارج کر دیا گیا۔
سندھ میں 19 ڈاکٹرز، 15 نرسز اور 22 دیگر ہیلتھ کیئر اسٹاف کرونا میں مبتلا ہوئے۔ ان میں سے 41 مریض زیر علاج جب کہ 15 کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایک ڈاکٹر تین ہیلتھ ورکرز میں کرونا کی تشخیص ہوئی اور چاروں ہیلتھ پروفیشنلز کو صحت یاب ہونے پر ڈسچارج کر دیا گیا۔
بلوچستان میں 24 ڈاکٹرز، ایک نرس اور سات ہیلتھ ورکرز میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جن میں سے 27 افراد آئسولیشن، چار اسپتال جب کہ ایک مریض ڈسچارج ہوا ہے۔
گلگت بلتستان میں ایک ڈاکٹر اور 16 ہیلتھ ورکرز میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ان میں سے 14 مریض اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ ایک کو ڈسچارج کیا گیا اور دو جان کی بازی ہار گئے۔
اسلام آباد میں 12 ڈاکٹرز، سات نرسز اور 12 ہیلتھ کیئر اسٹاف کرونا سے متاثر ہوئے۔ جن میں سے 26 مریض آئسولیشن، ایک اسپتال، تین ڈسچارج جب کہ ایک جان کی بازی ہار گیا۔
خیبر پختونخوا میں 14 ڈاکٹرز، چار نرسز اور 12 ہیلتھ کیئر اسٹاف کرونا سے متاثر ہوئے۔ جن میں سے 25 مریض آئسولیشن، چار اسپتالوں میں زیرِ علاج جبکہ ایک کو ڈسچارج کیا گیا۔
افغانستان میں کرونا کے مزید 50 کیسز رپورٹ
افغانستان کی وزارتِ صحت نے سات صوبوں میں کرونا وائرس کے مزید 50 کیسز کی تصدیق کی ہے۔ جس کے بعد افغانستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 1226 ہو گئی ہے۔
کابل میں چین کے سفیر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے افغان وزیر صحت ڈاکٹر فیروزالدین فیروز نے کہا کہ افغانستان میں احتیاطی اقدامات معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
دریں اثنا افغان صدراشرف غنی نے کابل میں مقیم غیر ملکی سفیروں اور امداد فراہم کرنے والے ملکوں کے نمائندوں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے افغان حکومت کے کووڈ-19 پروگرام سے نمٹنے کے پروگرام پر تبادلہ خیال کیا۔
افغان صدر کا کہنا ہے کہ حکومت کا کووڈ-19 پروگرام پانچ مرحلوں پر مشتمل ہے۔ جس میں فوڈ سیکیورٹی، صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری، کرونا وبا کے اقتصادی اثرات کو کم کرنا اور علاقائی تعاون کا تحفظ کرنا ہے۔ اس میں خاص طور پر وسطی ایشیا کے ملکوں کے علاوہ پاکستان اور بھارت سے تعاون شامل ہے۔
'کرونا وائرس سے انسانی حقوق کے بحران کا خدشہ بڑھ رہا ہے'
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا تیزی کے ساتھ انسانی حقوق کے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کے صحت کی سہولتیں بلا تفریق ہر شہری تک پہنچیں۔
سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ امداد سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد تک پہنچے۔ اور ہر شخص کو بلا امتیاز خوراک، پانی اور پناہ تک رسائی حاصل ہو۔
سیکریٹری جنرل گوتریس نے کہا کہ یہ وائرس لوگوں میں فرق نہیں کرتا اور سب لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمات کی ترسیل میں بڑی کمزوریاں پائی جا رہی ہیں اور یہ خدمات سب سے زیادہ ضرورت مند افراد تک پہنچانا اشد ضروری ہے۔