اگلے 15 روز اہم ہیں، لوگ گھروں کو عبادت گاہ بنائیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ کرونا کے حوالے سے اگلے پندرہ دن بہت اہم ہیں۔ بہتر ہے عوام گھروں کو عبادت گاہیں بنائیں اور احتیاط کریں۔
رال پنڈی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کرونا وبا کی وجہ سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں فوج کی تعیناتی کی گئی ہے اس کے لیے فوج سیکیورٹی الاؤنس وصول نہیں کرے گی۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سیکیورٹی ٹاسک سے متعلق اقدامات کا تسلسل جاری رکھا جائے گا۔ فوج کی روٹین اور ٹریننگ بھی جہاں تک ممکن ہو جاری رکھی جائے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی کے تحت ہاٹ سپاٹس پر سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنا رہے ہیں۔
میجر جنرل بابر افتحار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صورتِ حال اب بھی قابو میں ہے۔ لیکن پاکستانیوں کو اجتماعی احتیاط کی ضرورت ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ لوگ رمضان میں اپنے گھروں کو عبادت گاہ بنائیں۔
میجر جنرل بابر افتحار نے بتایا کہ پاکستان میں سول اور فوجی قیادت مل کر اس خطرے کا مقابلہ کر رہی ہے۔
مزید پڑھیے
امریکہ میں کرونا وائرس سے ریکارڈ یومیہ ہلاکتیں، نئے ریلیف پیکج پر آج دستخط ہوں گے
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے چھوٹے کاروباروں اور اسپتالوں کی معاونت کے لیے 484 ارب ڈالر کے امدادی پیکج پر جمعے کو دستخط کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دستخط ایوانِ صدر کے 'اوول آفس' میں کیے جائیں گے۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران یہ امریکی صدر کی جانب سے چوتھا امدادی پیکج ہے۔ یہ پیکج لاکھوں امریکیوں کو ریلیف اور چھوٹے کاروباری حضرات کی مدد کے لیے دیا جا رہا ہے۔
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں لاک ڈاؤن ہے جس سے کاروبارِ زندگی شدید متاثر ہے اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد سے اب تک دو کروڑ 60 لاکھ سے زائد امریکیوں نے بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ صرف گزشتہ ہفتے میں ہی 44 لاکھ سے زائد درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔
لہٰذا امریکی صدر نے چھوٹے کاروباروں اور اسپتالوں کی مدد کے لیے 484 ارب ڈالر کے ایک اور پیکج کا اعلان کیا ہے جو ایوانِ نمائندگان سے بھی کثرت رائے سے منظور ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیے
رپورٹرز ڈائری: کرونا وائرس، لاک ڈاؤن کی صورتِ حال اور پہلا روزہ
پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک میں ماہِ رمضان کا بہت جوش و خروش سے استقبال کیا جاتا ہے۔ لیکن ماضی کے برعکس اس بار کرونا وائرس کے باعث رمضان کی رونقیں نظر نہیں آ رہیں۔
نہ تو رمضان کا چاند دیکھنے کا جوش دکھائی دے رہا ہے نہ ہی پہلی سحری اور پہلے روزے کی وہ خصوصی تیاریاں جو ماضی میں دکھائی دیتی تھیں۔
کرونا وائرس کے باعث پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی تمام نجی و سرکاری اداروں سمیت معاشی، کاروباری، سماجی، مذہبی اور سیاسی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
مارچ کے وسط سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ بازار اور تجارتی مراکز بند اور تعلیمی اداروں میں تدریس معطل ہے۔ سرکاری اور نجی اداروں کے دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہ گئی ہے۔
لوگوں کا رہن سہن بدل رہا ہے۔ عادات اور روایات تبدیل ہو رہی ہیں۔ دوستوں کا ایک دوسرے کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ختم، حتیٰ کہ لوگوں سے مصافحہ کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے
افغانستان میں کرونا وائرس کے ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ
افغانستان کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 95 نئے کیسز رپورٹ ہونے کی اطلاع دی ہے۔ افغانستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 1330 ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں ایک دن کے دوران سامنے آنے والے کرونا وائرس کے کیسز کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
افغان وزارت صحت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب تک کرونا وائرس سے 43 اموات ہو چکی ہیں جب کہ 188 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
افغان وزارت صحت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رمضان میں کیسز کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔