کرونا وائرس سے تین درجن ملکوں میں قحط کا خطرہ
خوراک کے عالمی ادارے کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وائرس کے مزید تکلیف دہ اثرات ظاہر ہونے کے خدشات موجود ہیں جس کے لیے ابھی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے نیوز چینل سی بی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو آنے والے دنوں میں انسانی ہمدردی کے شدید بحران کا سامنا ہو سکتا ہے اور تین درجن کے لگ بھگ ملکوں میں قحط پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے سب سے شدید بحران ہوگا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بندرگاہیں بند پڑی ہیں اور رسد کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
عالمی ادارہ خوراک کے اعلیٰ عہدے دار، ڈیوڈ بیسلی نے، جو اس سے قبل ساؤتھ کرولائنا کے گورنر رہ چکے ہیں، بتایا کہ امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتیں ملک کو غربت، خوراک کی قلت اور عدم استحکام سے بچانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ لیکن، ان کا کہنا تھا کہ خوراک کی نقل و حمل جاری رکھنے کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
معیشت کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سارے عوامل کو پیش نظر رکھ کر احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے اور کرونا وائرس کا پھیلاؤ بھی قابو میں رہے۔
اس وقت افریقہ کے کئی ملکوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں لاکھوں پناہ گزینوں کو بھی خوراک اور زندگی کی بنیادی سہولتوں کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی ادارے ان کی مدد کے لیے دنیا بھر سے اپیلیں کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں ملنے والی امداد ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
پاکستان میں ٹیسٹ کی استعداد میں اضافہ، کیسز بھی بڑھنے لگے
حکومت نے پاکستان میں 12723 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق کی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں وبا کے 783 نئے مریض سامنے آئے جب جب کہ حکومت اب تک ایک لاکھ 44ہزار افراد کے ٹیسٹ کر چکی جن میں سے 6200 افراد کے ٹیسٹ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب تک 269 افراد کی موت ہو چکی ہے جن میں سے 93 افراد خیبر پختونخوا، 81 افراد پنجاب، 78 افراد سندھ، 11 افراد بلوچستان، 3 گلت بلتستان جب کہ 3 اسلام آباد میں ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کسی کی بھی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
متعدد ممالک میں معاشی عدم استحکام اور خوراک کی کمی کا اندیشہ
ہنگامی حالات میں امدادی سرگرمیاں کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم نے تمام حکومتوں پر زور دیا ہے کہ کرونا وائرس سے ہونے والے معاشی نقصانات کے ازالے کی منصوبہ بندی کی جائے۔
دنیا کے 192 ممالک میں خدمات انجام دینے والی انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے صدر فرانچسکو روکا کا کہنا ہے کہ وبا سے معاشی عدم استحکام، خوراک کی کمی اور فاقہ کشی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
فرانچسکو روکا نے مزید کہا کہ ہمیں اداروں کے ساتھ مل کر اس حوالے سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی قبل اس کے کہ بہت تاخیر ہو جائے۔
ویڈیو نیوز کانفرنس میں انہوں نے دنیا کے اکثر ممالک میں نافذ پابندیوں کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن سے لاکھوں لوگوں کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو گئے ہیں۔ ان ممالک میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں جب کہ وہ ملک بھی ہیں جہاں صورت خراب ہے یا وہ تنازعات کا شکار ہیں۔
مکہ کے علاوہ باقی سعودی عرب میں کرفیو میں جزوی نرمی
سعودی عرب نے مکہ کے علاوہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے باعث نافذ کیے گئے کرفیو میں جزوی نرمی کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ملک میں کرفیو میں نرمی کے حکم نامے میں مکہ میں 24 گھنٹے کا کرفیو برقرار رکھنے کے احکامات شامل ہیں جب کہ مکہ کے مضافات میں بھی پابندیاں برقرار رہیں گی۔
رمضان کے آغاز پر ملک کے تمام شہروں میں صبح 9بجے اور شام کے 5بجے کرفیو میں نرمی کی جائے گی۔ یہ سلسلہ 13مئی تک جاری رہے گا۔
شاہی حکم نامے میں کچھ معاشی سرگرمیاں بھی کرنے کی رعایت دی گئی ہے۔ جن میں ہول سیل کی مارکیٹ، اشیا ضروریہ کی دکانیں اور شاپنگ مال شامل ہیں۔