نیوزی لینڈ میں اسکول کھل گئے، کاروبار کی اجازت
نیوزی لینڈ نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے اسکولوں اور کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔
وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ حکومت نئے کیسز کی شناخت کا عمل جاری رکھے گی۔
نیوزی لینڈ میں اب تک کرنا وائرس کے 1100 کیسز کی نشاندہی ہوئی ہے جب کہ وبا سے 19 افراد کی موت ہوئی۔
وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں کرونا وائرس کے وسیع پیمانے پر پھیلنے کے شواہد نہیں ملے۔ نیوزی لینڈ نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ جیت لی ہے۔
پابندیوں میں نرمی سے چار لاکھ کے قریب افراد اپنے کام پر واپس آ گئے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں مکمل لاک ڈاؤن چار ہفتے تک جاری رہا۔
نیوزی لینڈ کے ہمسایہ ملک آسٹریلیا میں موبائل فون کی ایک خاص ایپ متعارف کرائی گئی ہے۔ موبائل ایپ سے ریاستی حکومتوں اور طبے عملے کو کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آنے والوں کے رابطے میں رہنے والے لوگوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔
اس نشاندہی سے حکام فیصلہ کر پائیں گے کہ کن افراد کو از خود قرنطینہ میں جانا ہو گا اور کن کا ٹیسٹ کرنا ضروری ہو گا۔
آسٹریلیا کے وزیر صحت گریگ ہنٹ نے بتایا کہ 20 لاکھ کے آسٹریلوی شہری یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں۔
وائرس سے نمٹنے کے دوران انسانی حقوق کا خیال رکھنے پر زور
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر مشیل بیچلٹ نے دنیا بھر کی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے ہوئے انسانی حقوق کا خاص خیال رکھیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس وبا کے حوالے سے غیر معمولی ہنگامی صورت کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالی ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔
ہائی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرونا وائرس سے مؤثر طور پر نمٹنے تک محدود رہنا چاہیے اور اس سے ماورا اس کا کوئی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ان اختیارات کو مخالفین کو کچلنے، آبادیوں کو کنٹرول کرنے یا اپنے اقتدار کو طوالت بخشنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
مشیل بیچلٹ کا مزید کہنا تھا کہ مختلف ممالک سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والی دیگر فورسز کی طرف سے لاک ڈاؤن، کرفیو اور دیگر پابندیوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے سختی اور طاقت کے بے دریغ استعمال کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت عامہ کی یہ ہنگامی صورت حال انسانی حقوق کی پامالی کی صورت اختیار کر سکتی ہے جس کے اثرات کرونا وائرس سے بھی زیادہ مدت تک جاری رہ سکتے ہیں۔
ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ انتہائی ضرورت کے تحت خوراک کے حصول کے لیے باہر نکلنے پر مجبور لوگوں پر گولی چلانا، انہیں حراست میں رکھنا اور ان کے ساتھ زیادتی کرنا ناقابل قبول ہے۔
- By سہیل انجم
بھارت میں کیسز کی تعداد 28 ہزار کے قریب، ہلاکتیں 872 ہو گئیں
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 27892 جب کہ ہلاکتیں 872 تک پہنچ گئی ہیں۔ حکام نے 6884 افراد کے صحت یاب ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن نے کہا ہے کہ ملک کے 300 اضلاع کرونا فری ہیں۔ 297 میں ہاٹ سپاٹ یا کرونا کے مراکز نہیں ہیں جب کہ صرف 127 اضلاع ہی کرونا ریڈ زون ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے لاک ڈاؤن کے سلسلے میں چوتھی بار ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میٹنگ کی۔ میگھالیہ اور ہماچل پردیش کو چھوڑ کر تمام ریاستوں نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کی حمایت کی۔
بھارت میں 25 مارچ سے 40 روزہ لاک ڈاؤن نافذ ہے جس کی مدت تین مئی کو ختم ہو رہی ہے۔
افغانستان کے 18 صوبوں میں مزید 172 کیسز
افغانستان کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 18 صوبوں میں کرونا وائرس کے 172کیسز سامنے آئے ہیں۔
افغانستاں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 1703 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر وحیداللہ مائر نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ افغانستان میں کرونا کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 58 ہے جب کہ 220 صحت یاب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے تین ہفتوں کے دوران وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان نے عوام پر زور دیا کہ وہ گھروں میں رہیں۔
ڈاکٹر مائر نے بتایا کہ 21 مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں 31 صوبوں میں کام کر رہی ہیں۔ ان میں طالبان کے زیر کنٹرول علاقے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں بھی کرونا وائس کے کیسز کی اطلاع ہے۔
کابل گزشتہ چار ہفتوں سے لاک ڈاؤن میں ہے اور دن میں کرفیو جاری ہے۔ مقامی رہائشی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی شکایت کر رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق وہ رمضان کے مہینے میں اپنے خاندانوں کے لیے ضروری اشیا خریدنے سے قاصر ہیں۔