کرونا وائرس سے اموات کم ہونے لگیں
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 30 لاکھ اور امریکہ میں 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے لیکن اب اموات کی تعداد میں کمی آنے لگی ہے۔ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 9 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں پیر کو کرونا وائرس کیسز 30 لاکھ 50 ہزار اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 11 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔
24 گھنٹوں کے دوران فرانس میں 437، برطانیہ میں 360، اٹلی میں 333، اسپین میں 331، برازیل میں 272، کینیڈا میں 142 اور بیلجیم میں 113 مریض چل بسے۔ ایران میں یہ تعداد 96، ترکی میں 95، ایکویڈور میں 87، سویڈن میں 80، جرمنی میں 74، بھارت میں 58 اور سوئزرلینڈ میں 55 اور پرو میں 54 تھی۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی کل تعداد 26977، اسپین میں 23521، فرانس میں 23293، برطانیہ میں 21092، بیلجیم میں 7207، جرمنی میں 6050، ایران میں 5806، چین میں 4633، برازیل میں 4543 اور نیدرلینڈز میں 4518 ہو چکی ہے۔
امریکہ میں پیر کی سہہ پہر تک 1114 اموات ہوئی تھیں جس کے بعد کل تعداد ساڑھے 56 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔ ملک میں 56 لاکھ سے زیادہ شہریوں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں جن میں 10 لاکھ مثبت آئے ہیں۔
امریکہ کی 10 ریاستوں میں ایک ہزار سے زیادہ مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیویارک میں 22612، نیوجرسی میں 6044، مشی گن میں 3407، میساچوسیٹس میں 3003، الی نوئے میں 1983، کنیٹی کٹ میں 1924، پینسلوانیا میں 1860، لوزیانا میں 1740، کیلی فورنیا میں 1725 اور فلوریڈا میں 1088 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ جارجیا، میری لینڈ اور انڈیانا میں یہ تعداد 900 سے زیادہ ہے۔
کرونا کے صحت یاب مریض کے لیے بھی احتیاط لازمی ہے
ڈاکٹر سواتی وشواناتھن کیلئے اپنے مریضوں کو یہ بتانا مشکل تھا کہ وہ ان کا علاج کیوں جاری نہیں رکھ سکتیں اور اچانک انہیں کووڈ 19 کے مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے آئی سی یو میں کیوں طلب کرلیا گیا ہے۔
یہ نیو یارک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی بہتات کے دن تھے۔ ڈاکٹر سواتی بروکلین نیو یارک ایچ ایچ سی ہاسپٹل میں آن کالوجسٹ ہیں۔ کینسر کے مریضوں کا علاج کرتے کرتے انہیں کووڈ 19 کے مریضوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں فرائض انجام دینے کیلئے کہا گیا تھا۔
سواتی کے شوہر ڈاکٹر پراشانت موتھو کرشنا ایک پلمونالوجسٹ ہیں۔ وہ بھی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ ڈاکٹر سواتی کہتی ہیں کہ پہلے تو خیال تھا کہ کینسر کے مریضوں کی حالت سب سے زیادہ تشویشناک ہوتی ہے، مگر کووڈ 19 کا تجربہ ان کی لئے اس سے بھی بڑھ کر کٹھن رہا۔
وہ دونوں کہتے ہیں کہ مریضوں کیلئے کچھ نہ کر سکنا ایک ڈاکٹر کیلئے بہت تکلیف دہ بات ہے۔ ڈاکٹر ہمیشہ اپنی کامیابی چاہتا ہے مگر کووڈ 19 نے ڈاکٹروں کو بھی بے بس کر دیا ہے۔ اپنے سامنے مریضوں کو موت سے ہمکنار ہوتے دیکھنا اور پھر لواحقین کی مجبوری کہ وہ اپنے پیاروں کے آخری وقت ان کے ساتھ بھی نہیں، بہت المناک صورتِ حال ہے۔
اب اگرچہ مریضوں کی تعداد کم ہو رہی ہے مگر خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ ڈاکٹر موتھوکرشنا کہتے ہیں کہ جو لوگ صحتیاب ہو گئے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کم از کم دو ہفتے تک احتیاط جاری رکھیں۔ اپنے ڈاکٹر سے رابطے میں رہیں اور سوشل ڈسٹنسنگ پر عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس وائرس پر تحقیق ہو رہی ہے اور یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک مرتبہ اس کا شکار ہونے والے لوگ اس سے ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گئے ہیں یا نہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان کا عمران اسماعیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سندھ کے گورنر عمران اسماعیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ عمران اسماعیل کا کرونا ٹیسٹ پیر کی رات مثبت آیا تھا۔
وزیرِ اعظم نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ عمران اسماعیل کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ انہیں مرض کیخلاف مزاحمت کی قوت اور سکت عطا فرمائیں۔
کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے باوجود لبنان میں مظاہرے
کرونا وائرس کی وجہ سے لبنان کی حکومت کے نافذ کردہ کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود، ملک کی بگڑتی معاشی صورت حال پر احتجاج کیلئے مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اِنہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ بیماری یا بھوک سے مرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مزدور پیشہ اور متوسط طبقے کے لوگ اس وقت شدید دباؤ میں ہیں اور صورت حال گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ مشکلات کا شکار پناہ گزیں ہیں جو آبادی کا سب سے کمزور طبقہ ہے۔
لاک ڈاؤن کے سبب ملازمتوں سے فراغت اور موسم میں تبدیلی کے سبب لبنانی دوبارہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں، اور پورے ملک میں مظاہرے جاری ہیں۔ چند شاہراہوں پر لو گوں نے ٹائر جلا کر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔
وزیر صحت حماد حسن نے خبردار کیا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے حاصل کی گئی کامیابیاں، مظاہرین کی وجہ سے واضح طور پر خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ محتاط رہیں، ماسک پہنیں اور سماجی دوری برقرار رکھیں، تا کہ وائرس ایک سے دوسرے کو ،منتقل نہ ہو سکے۔
ملک بھر میں ان مظاہروں کا آغاز گزشتہ سال اکتوبر میں حکمران اشرافیہ کے خلاف اس وقت شروع ہوا جب عام آدمی کیلئے معاشی مشکلات کا دباؤ مسلسل بڑھتا چلا گیا۔