کرونا وائرس لاک ڈاؤن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر دنیا بھر کے حکومتوں سے کہا کہ وہ کرونا وائرس کے خلاف اقدامات اٹھاتے ہوئے انسانی حقوق کا احترام کریں۔
ہائی کمشنر مچل بیچلیٹ نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہنگامی اقدامات کی آڑ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی اختیارات کے استعمال کا مقصد کرونا وائرس کے خلاف موثر جنگ ہونا چاہیے۔ اس سے زیادہ کچھ اور نہیں ہونا چاہیے۔ اسے حکومتیں اپنے مخالفوں کو کچلنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر قطعی استعمال نہ کریں۔
ہائی کمشنر مچل بیچلیٹ نے کہا کہ اس قسم کی اطلاعات ملی ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں میں پولس اور سیکیورٹی فورسز نے طاقت کا ناجائز استعمال کیا ہے اور بعض اوقات لوگوں کو لاک ڈاون اور کرفیو کی پابندی کرنے پر مجبور کرنے کے لیے مہلک طریقے استعمال کیے ہیں۔ یہ دیکھتے ہوئے ان کے دفتر نے نئی پالیسی گائیڈلائن جاری کی ہے۔ جس میں ہنگامی اقدامات کے دائرہ کار کا تعین کیا گیا ہے۔
ہائی کمشنر مچل بیچلیٹ نے مزید کہا کہ انسانیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہنگامی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اگر قانون کی حکمرانی کو نظر انداز کیا گیا تو عوام کی صحت بھی خطرے میں پڑ جائے گی اور اس کے منفی اثرات اس وبا سے بھی زیادہ دیر پا ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کرفیو توڑنے والے ان لوگوں کو، جو خوراک کی تلاش میں باہر نکلیں ہوں، انہیں مارنا پیٹنا یا ان پر گولی چلانا نا قابل قبول اور غیر قانونی ہے۔
مزید پڑھیے
کرونا کے بعد مشکلات کا دور، حل اقوام متحدہ کا فعال کردار ہے: تجزیہ کار
دنیا کے متعدد خطوں میں علاقائی تصادموں اور جنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں ایک جانب تو کرونا وائرس کی ہولناک وبا انسانی زندگیوں کو فنا کی وادیوں میں اتار رہی ہے اور دوسری جانب خود انسان بھی انسان کا دشمن بنا ہوا ہے۔
ان تصادموں میں نہ صرف معصوم انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر در بدری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور ایسے میں جب کہ کرونا کا یہ بے قابو عفریت انسانی جانوں کو نگل رہا ہے اور تہذیبوں کو چاٹ جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ مسلسل یہ کوشش کر رہی ہے کہ علاقائی تصادموں اور جنگوں کو ختم کروایا جائے تاکہ عالم انسانیت کی پوری توجہ اس وبا کے خلاف جنگ پر مرکوز ہو سکے۔
یہ وبا انسانی معاشروں کو برباد کر رہی ہے اور آنے والے وقت میں ایک ایسے شدید معاشی بحران کے لئے بنیادیں بھی فراہم کر رہی ہے جو شاید کسی کے بھی روکے رک نہیں سکے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جنگ بندیوں کی اپیلیں کر رہے ہیں لیکن اصغر گونڈوی کے اس شعر کے مصداق
میری ندائے درد پہ کوئی صدا نہیں
بکھرا دیے ہیں کچھ مہ و انجم جواب میں
اس ندائے درد پہ کوئی لبیک کہنے کو تیار نہیں ہے۔ افغانستان ہو یا یمن۔ کردوں کی سرگرمیاں ہوں یا براعظم افریقہ کے ملکوں میں ہونے والے تصادم۔ سیکرٹری جنرل اور انسانیت کا درد رکھنے والوں کی یہ اپیلیں صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہیں۔ اس کی وجوہات کیا ہیں۔ اس بارے میں ہم نے بین الاقوامی سیاست کے ماہرین سے گفتگو کی۔ جن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کسی حد تک غیر موثر ہو چکی ہے اور اپنی بات منوانے کے قابل نہیں رہی ہے۔
مزید پڑھیے
کرونا وائرس سے رمضان کی روایات متاثر
رمضان المبارک سے جڑی ہوئی قدیم مسلم روایات کو اس سال کرونا وائرس کے سلسلے میں عائد پابندیوں نے گہنا دیا ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں لوگوں کی آمدورفت، اجتماعات اور اجتماعی عبادات پر پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ اس بار رمضان کا مہینہ مسلمانوں کے لیے کتنا مختلف ثابت ہو رہا ہے؟ دیکھئے اس رپورٹ میں
امریکہ میں پھنسے پاکستانی یوتھ ایکس چینج اسٹوڈنٹس کئی ہفتوں سے طیارے کے منتظر
امریکہ میں کرونا لاک ڈاون کی وجہ سے اس وقت امریکی محکمہ خارجہ کے یوتھ ایکس چینج پروگرام کے تحت 15 سے 17 سال کی عمروں کے 70 سے زیادہ طالب علم پھنس کر رہ گئے ہیں۔ یہ طالب علم اپنے میزبان گھرانوں کے ساتھ مختلف امریکی ریاستوں میں رہ رہے ہیں اور گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان سے کسی خصوصی طیارے کے انتظار میں اپنا رخت سفر باندھے بیٹھے ہیں مگر ان کی فلائٹ کا شیڈول بار بار تبدیل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے وہ بے یقینی اورپریشانی کا شکار ہیں۔
وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں امریکہ کی مختلف ریاستوں میں موجود ان طالب علموں نے کہا کہ وہ چاہتے کہ انہیں گو مگو میں رکھنے کی بجائے واضح طور پر بتا دیا جائے کہ پاکستانی حکومت ان کی واپسی کے لیے طیارے کا انتظام کب کرتی ہے، یا وہ ابھی کچھ نہیں کر رہے۔
ایریزونا میں موجود نوشہرہ کے حمزہ خٹک نے بتایا کہ کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے ان کی میزبان فیملی جلد ہی اپنی ملازمت سے فارغ ہونے والی ہے، جس کے بعد وہ ان کی میزبانی نہیں کر پائے گی اور ایسےحالات میں وہ اپنے لئے نہ تو کوئی میزبان فیملی تلاش کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی گھرانا انہیں اپنے گھر میں مہمان رکھنے کو تیار ہو گا۔ اور اگر اس دوران ان کا ویزا ختم ہو گیا تو ان کے لئے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔