عالمی وبا کے اقتصادی اثرات اور واشنگٹن میں بڑھتی سیاسی محاذ آرائی
کرونا وائرس کی وبا کے منفی اثرات نے جہاں اقتصادی سرگرمیوں کا پیہہ جام کر دیا ہے، وہاں اس کے نتیجے میں، امریکہ میں سیاست دانوں میں بھی کشیدگی نے جنم لیا ہے جن میں محاذ آرائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
معاشی اور اقتصادی شعبے پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لئے وفاقی اور ریاستی سطح پر اقدامات جاری ہیں اور بعض ریاستوں نے محتاط انداز میں پابندیاں نرم کر دی ہیں۔ لاک ڈاون میں متعدد ریاستوں کی معیشت کو شدید طور پر اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے اور وہ ایک اور امدادی پیکیج میں مزید فنڈنگ کے لئے وفاقی حکومت کی جانب دیکھ رہی ہیں۔
کئی ہفتوں کے لاک ڈاون کے نتیجے میں بیروزگاری کی شرح آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر مشیر کیون ہیسٹ کہتے ہیں کہ امریکی معیشت پر تاریخی نوعیت کے اثرات پڑ رہے ہیں۔
ان کے مطابق ہماری معیشت اس سے بڑے صدمے سے کبھی دوچار نہیں ہوئی۔ بیروزگاری اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ وہ اب عظیم کساد بازاری کے دور کی حدودوں کو چھونے والی ہے۔ دوسری جانب کاروبار بند ہونے کی وجہ سے محصولات کی مد میں آمدن کم ہوتی جا رہی ہے جب کہ بیروزگاری الاونس کی ادائیگی کے باعث زبردست مالی بوجھ الگ پڑ رہا ہے۔ بہت سے گورنر کانگریس پر زور دے رہے ہیں کہ اگلے امدادی پیکیج میں ریاستوں کے لئے فنڈنگ مختص کی جائے۔
نیشنل گورنرز ایسوسی ایشین کے چیئرمین اور میری لینڈ کے گورنر لیری ہوگان نے اے بی سی کے پروگرام ’دیس ویک‘ میں کہا کہ ہم اگلے محاذ پر ہیں اور ہمیں لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے ضروری خدمات مہیا کرنا لازمی ہے۔
لیکن بہت سے ریپبلکن اور وائٹ ہاؤس کے اقتصادی ماہرین امدادی فنڈنگ میں پہلے ہی دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ مہیا کیے جانے کے بعد مزید وفاقی قرض کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے
پنجاب کے دیہی علاقوں میں وبا کی آگہی مہم انوکھے انداز سے
پنجاب کے شہروں میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق دیہی علاقوں سے تاحال ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ محکمے نے دیہی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو کرونا وائرس سے بچانےکے لیے آگہی کی ایک خاص انداز کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ضیا الرحمٰن کی رپورٹ
کرونا وائرس: صدر ٹرمپ کا چین پر ہرجانے اور 'سنجیدہ تحقیقات' پر غور
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں نقصانات کے باعث چین کے خلاف تحقیقات اور ہرجانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
پیر کو وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ "ہم موجودہ صورتِ حال سے خوش نہیں ہیں۔ کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا۔"
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین سے خوش نہیں ہیں۔
انہوں نے چین کا نام لیے بغیر کہا کہ ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے بہت سے طریقے موجود ہیں۔
ایک جرمن اخبار نے حال ہی میں اپنے ایڈیٹوریل میں چین سے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے باعث جرمنی کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے 165 بلین ڈالر ہرجانہ ادا کرے۔
صدر ٹرمپ سے جب جرمن اخبار کے اس مطالبے سے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ بھی ایسا مطالبہ کر سکتا ہے؟ جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان کام کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جتنی رقم کا تقاضہ جرمنی کر رہا ہے اس کے مقابلے میں ہم کئی گنا زیادہ رقم کی بات کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیے
کراچی: سڑکوں پر افطار کی رونقیں ماند پڑ گئیں
کراچی میں رواں برس رمضان کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔ کرونا وائرس کے باعث شہر میں لاک ڈاؤن ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے کاروبار بند رکھنے کی بھی ہدایت۔ جس کی وجہ سے سڑک کنارے افطار کا اہتمام دکھائی نہیں دے رہا۔ ان اقدامات پر شہری کیا کہتے ہیں؟ دیکھیے سدرہ ڈار کی اس ڈیجیٹل رپورٹ میں۔