فیس ماسک پہننے کا درست طریقہ کیا ہے؟
صدر ٹرمپ کرونا کے باعث افغانستان سے فوج کا فوری انخلا چاہتے ہیں: رپورٹ
امریکی ذرائع ابلاغ نے بعض عہدے داروں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں کرونا کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر امریکی فوج کا جلد انخلا چاہتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے 'این بی سی نیوز' میں پیر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ تقریباً روزانہ اپنے مشیروں سے افغانستان میں کرونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر فوج کے حوالے سے فکر مندی کا اظہار کر چکے ہیں۔ صدر افغانستان میں کرونا کے پھیلاؤ کو امریکی فوج کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے یہ تحفظات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں۔ جب امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں سال فروری میں طے پانے والے امن معاہدے پر عمل درآمد میں سست روی پر بھی امریکی حکام تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اس صورتِ حال میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ افغانستان سے امریکی فوج کے جلد انخلا کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
افغانستان سے آنے پاکستانیوں کا قرنطینہ میں احتجاج، گھر جانے پر اصرار
افغانستان سے پاکستان آںے والے تین درجن سے زائد افراد نے گھر جانے کی اجازت دینے کے لیے لنڈی کوتل میں قائم قرنطینہ سینٹر میں احتجاج کیا۔
قبائلی ضلع خیبر کے انتظامی عہدے داروں نے احتجاج کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک صوبائی حکومت یا دیگر عہدے دار حکم نہیں دیتے ان لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پوسٹ گریجویٹ کالج میں قائم قرنطینہ مرکز میں داخل تین درجن سے زائد افراد نے منگل کی صبح کالج کے گراؤنڈ میں آکر دھرنا دے دیا۔
مظاہرین کا موقف تھا کہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔ ان کے کرونا ٹیسٹ بھی منفی آئے ہیں۔ لیکن اُنہیں گھروں کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
البتہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں میں سے کئی شوگر کے مریض ہیں۔ لہذٰا ان لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلٰی کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے رابطے پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صحت مند افراد کو گھر جانے کی اجازت ہے۔ لیکن مشتبہ افراد کو کم سے کم 14 روز قرنطینہ میں گزارنے ہوں گے۔
اجمل وزیر نے کہا کہ ابھی تک طورخم کے راستے افغانستان سے 1987 افراد واپس آئے ہیں۔ اور ان میں 900 سے زائد کو گھر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
پنجاب میں کرونا سے 95 ہلاکتیں، مجموعی کیس 5730
پاکستان کے صوبے پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق صوبے میں کرونا سے سب سے زیادہ 1408 مریض لاہور میں ہیں۔ پنجاب میں کرونا سے اب تک 95 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کے بقول ہلاک ہونے والوں کی عمر 50 سے 70 سال کے درمیان ہے۔ پانچ سے چھ فی صد اموات 50 سال سے کم عمر افراد کی ہوئیں، لیکن وہ کرونا کے علاوہ کسی اور مرض میں بھی مبتلا تھے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ صوبے میں اب تک 5730 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ صوبے میں اب تک 75229 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ 1326 مریض اب تک مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ اگر دورانِ ڈیوٹی طبی عملے کا کوئی شخص کرونا کا شکار ہو کر ہلاک ہوا تو اسے شہید کا درجہ دیا جائے گا۔ دوران ڈیوٹی ہلاک ہونے والے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو 40 ملین روپے تک کا پیکج دیا جائے گا۔
اُن کے بقول پنجاب میں کرونا ٹیسٹ کے لیے سات لیبارٹریاں فعال ہو چکی ہیں جب کہ تین مزید قائم کی جا رہی ہیں۔