کرونا وائرس: خیبر پختو نخوا میں اموات دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ کیوں؟
پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں کرونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ صوبے میں اب تک کرونا سے 104 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ بعض ماہرین اس کی وجہ صوبے میں صحتِ عامہ کے ناقص نظام اور تربیت یافتہ عملے کی کمی قرار دیتے ہیں۔
چند روز قبل صوبے کے سرکاری اسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ایک سینئر ڈاکٹر جاوید انور کی ہلاکت اور طبی عملے کے 46 اراکین کے کرونا کا شکار ہونے پر صوبے میں عالمی وبا سے نمٹنے کی صلاحیت پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔
وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے پشاور کے ايک سینئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خيبر پختونخوا کے اسپتالوں ميں انتہائی نگہداشت (آئی سی یوز) میں تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے۔
اُن کے بقول اس کی وجہ صوبے میں متعارف کرایا گیا 'ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ ریفارمز ایکٹ' ہے۔ جس کے تحت سینئر ڈاکٹرز کی درجہ بندی میں کئی جونیئر ڈاکٹرز آ گئے ہیں۔ لہذٰا اب صوبے کے بڑے اسپتال جونیئر ڈاکٹرز ہی چلا رہے ہیں۔
'اگلے سال تک وبا ختم نہ ہوئی تو اولمپکس منسوخ کر دیے جائیں گے'
رواں سال ملتوی ہونے والے ٹوکیو اولمپکس کی انتظامی کمیٹی کے صدر یوشیرو موری نے کہا ہے کہ اگر اگلے سال تک بھی کرونا وائرس ختم نہ ہوا تو اولمپکس منسوخ کر دیے جائیں گے۔
ٹوکیو اولمپکس 2020 پہلے ہی ایک سال کے لیے ملتوی کیے جا چکے ہیں جس کے بعد انہیں اگلے سال یعنی 2021 میں 23 جولائی سے منعقد ہونا ہے تاہم یوشیرو موری کا کہنا ہے کہ اس کے بعد مزید التوا ممکن نہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ایک انٹرویو میں یوشیرو موری کا کہنا تھا کہ وبا پر قابو پانے میں زیادہ وقت لگنے سے اولمپکس میں تاخیر ہو گی لیکن اگر وائرس کنٹرول میں آگیا تو پھر ہم اطمینان سے اگلے سال اولمپکس منعقد کریں گے۔ کرونا وائرس کے خلاف جنگ ایک غیرمرئی دشمن سے لڑنے کے مترادف ہے۔
یوشیرو موری کا یہ بھی کہنا تھا کہ انسانی صحت کھیلوں سے زیادہ اہم ہے۔
دوسری جانب جاپان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ یوشیتاکے یوکوکورا نے بھی منگل کو ہی اس بات سے خبردار کیا کہ کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے اگر کوئی ویکسین نہ بن سکی تو اگلے سال بھی ٹوکیو اولمپکس کا انعقاد مشکل ہوگا۔
افغانستان میں کرونا کے مزید 125 کیس رپورٹ
افغانستان کے محکمہ صحت نے ملک میں کرونا وائرس کے مزید 125 کیسز کی تصدیق کی ہے۔ جس کے بعد ملک میں مجموعی کیس 1828 ہو گئے ہیں۔
افغان محکمہ صحت کے مطابق اب تک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 58 ہو چکی ہے جبکہ 228 مریض صحت یاب ہو گئے ہیں۔
محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر وحید اللہ مایئر نے بتایا کہ کابل اور کچھ دوسرے صوبوں میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ اگر یہی رجحان رہا تو وائرس تیزی سے پھیلے گا۔
دریں اثنا افغان وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر ملکی امداد کا حصول ملکی ترجیحات میں شامل ہے۔