آکسفورڈ یونیورسٹی کا ویکسین کی تیاری میں پیشرفت کا دعویٰ
آکسفورڈ یونی ورسٹی کے سائنس دانوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے انسداد کے لیے وقت سے پہلے ویکسین تیار کر لیں گے۔ ان کے اس دعوے سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ویکسین کے لیے شائد اگلے سال تک کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس ویکسین کا پہلا انجکشن یونی ورسٹی کے جینر انسٹی ٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔ اس کی آزمائش بھی وقت سے پہلے شروع ہوگی۔
اخبار نیو یارک ٹائمز کی خبر کے مطابق، سائنس دان اس ویکسین کو مئی کے آخر میں چھ ہزار سے زیادہ افراد پر آزمائیں گے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ پروگرام کے مطابق ہوا، تو ستمبر تک دس لاکھ ویکسین ڈوز تیار ہو جائیں گے۔ اس کے بعد یہ سال سے ڈیڑھ سال کے اندر پوری دنیا میں دستیاب ہو جائے گی۔
ابتدائی تجربات سے اس ویکسین کے موثر ہونے کے امکانات ظاہر ہوئے ہیں۔ جانوروں پر اس کے تجربات سے اس کی تصدیق ہوئی ہے کہ اس سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں ایک سو سے زیادہ تجربہ گاہوں میں کرونا وائرس کے انسداد کے لیے ویکسین پر تجربات ہو رہے ہیں۔
زندگی پرانے معمول پر کب آئے گی؟ آئے گی بھی کہ نہیں؟
ہر شخص جاننا چاہتا ہے کہ زندگی کب معمول پر واپس آئے گی؟
امریکہ کی کئی ریاستوں کے گورنرز نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگائی گئی پابندیاں نرم کرنا شروع کیں تو یہ امید پیدا ہوئی کہ معمولات دوبارہ بحال ہونے والے ہیں۔ لیکن ریاستوں کے جو منصوبے سامنے آئے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرانے معمولات کی بحالی میں طویل عرصہ لگے گا۔
وائٹ ہاؤس کی مشیر ڈاکٹر ڈیبورا برکس کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو موسم گرما کے دوران سوشل ڈیسٹینسنگ برقرار رکھنا پڑے گی۔ لوزیانا کے گورنر جان بیل ایڈورڈز نے خبردار کیا ہے کہ ویکسین کے دستیاب ہونے تک اسی طرح زندگی گزارنا پڑے گی، جو شاید اگلے سال سے پہلے نہیں ملے گی۔ نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو کہتے ہیں کہ زندگی میں جانے والے کل کی طرف واپسی ممکن نہیں۔
ابتدا ہی سے وبا نے ناممکن چناؤ پر مجبور کیا تھا، یعنی جسمانی صحت یا ذہنی صحت؟ معاشی تحفظ یا طبی تحفظ؟ امریکہ کی ریاستوں نے دنیا کی تقلید کا فیصلہ کیا اور دکانیں، ریسٹورنٹس، کارخانے اور تعلیمی ادارے بند کر دیے۔ لوگوں سے کہا کہ اپنے گھروں میں رہیں۔ اب ان پابندیوں میں کچھ نرمی کی جا رہی ہے۔
ریاست جارجیا کے گورنر برائن کیمپ نے کاروبار کو کھولنے کے لیے امریکہ میں سب سے زیادہ جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو باربر شاپس، نیل سیلونز اور جمنازیمز کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ پیر سے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانے اور سینما گھروں میں فلموں کی نمائش پر پابندی ختم کردی گئی۔ صحت عامہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کافی تعداد میں شہریوں کے ٹیسٹ کرنے سے پہلے ان اقدامات کا نتیجہ وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
چائے، ادرک، شراب، کلوروکوئن اور جراثیم کش کیمیکلز
صحت عامہ کے ماہرین بار بار عوام کو خبردار کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس کی نہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ کوئی علاج۔ نہ ہی کوئی شے کھانے یا پینے سے خاص طور پر اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔
لیکن، دنیا بھر میں افواہوں کی وجہ سے کچھ لوگ الٹی سیدھی چیزیں کھا پی رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہزاروں لوگوں نے مضر اشیا سے صحت بگاڑ لی ہے اور سیکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
تازہ خبر ایران سے آئی ہے جہاں وزارت صحت نے بتایا ہے کہ 20 فروری سے 7 اپریل کے دوران ملک بھر میں 728 افراد زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہوگئے۔ وزارت کے ایک مشیر نے اے پی کو بتایا کہ 525 افراد اسپتالوں میں اور باقی گھروں پر دم توڑ گئے۔
اس خوف کی فضا میں یہ افواہ پھیل گئی کہ الکوحل پینے سے کرونا وائرس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد ملک میں زہریلی شراب کے کیسز میں 10 گنا اضافہ ہوگیا۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق دو ماہ سے کم عرصے میں پانچ ہزار افراد زہریلی شراب پی کر بیمار ہوئے۔ ان میں کم از کم 90 اندھے ہوگئے۔
ایران واحد ملک نہیں جہاں افواہوں یا گمان کی بنیاد پر غلط علاج تجویز کیا گیا۔ کئی اور ملکوں میں بھی یہی حال ہے۔
کرونا وائرس: 31 لاکھ مریض، ساڑھے 9 لاکھ صحت یاب
روس میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھتے ہوئے ایران سے زیادہ ہوگئی ہے، جبکہ لاطینی امریکہ کے ملک ایکویڈور میں ایک دن میں 200 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔
نئے اعداد و شمار سے ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے کہ کرونا وائرس صرف امریکہ اور یورپ کو متاثر نہیں کرے گا، بلکہ باری باری تمام ملک اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں منگل کو کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 31 لاکھ اور اموات کی تعداد 2 لاکھ 16 ہزار سے بڑھ گئی۔
ایکویڈور کے بارے میں شبہ ہے کہ وہاں ہزاروں افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے تصدیق نہیں کی جا رہی۔ مقامی حکومتوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اموات میں کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے۔
سرکاری طور پر ایکویڈور میں 24 ہزار کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور منگل سے پہلے 663 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ لیکن میڈیا کے مطابق، اتنی بڑی تعداد میں لوگ مر رہے ہیں کہ قبرستانوں میں توسیع کرنا پڑی ہے۔ اسپتالوں کے دروازوں پر، برآمدوں میں اور حد یہ کہ سڑکوں پر لاشیں پڑی دکھائی دیتی ہیں۔