رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

15:27 29.4.2020

کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن، ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی

کرونا وائرس کے چند مثبت اثرات میں سے ایک ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی ہے جو لاک ڈاؤن کے سبب کارخانے بند ہونے، گاڑیوں اور ایندھن کے کم استعمال کی وجہ سے ظاہر ہو رہی ہے۔ آلودگی میں کمی کے انسانی صحت پر بھی خاصے مفید اثرات سامنے آ رہے ہیں۔

ایک حالیہ تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آلودگی میں کمی سے اچانک یا کسی اٹیک سے ہونے والی اموات کی شرح کم ہوئی ہے۔ دمے کے مرض میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

یہ تحقیق ناروے کے ایک ماحولیات سے متعلق تحقیقی ادارے 'سینٹر فور انٹرنیشنل کلائمیٹ ریسرچ' نے کچھ دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آلودگی کم ہونے سے سات ہزار کے لگ بھگ قبل از وقت اموات اور تقریباً اتنے ہی دمے کے حملوں میں بھی کمی آئی ہے۔

تحقیق کے دوران 27 ممالک کے 10 ہزار سے زائد ایئر مانیٹرز کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے اور اس کا موازنہ گزشتہ تین سال کی ایئر کوالٹی کے اعداد و شمار سے کیا گیا ہے۔

مزید جانیے

15:35 29.4.2020

بنگلہ دیش: سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ گارمنٹس فیکٹریوں میں کام

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں گارمنٹس فیکٹریوں میں کام کرنے خواتین سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کام کر رہی ہیں۔

کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کارخانوں کے باہر ملازمین کی اسکریننگ کی جاتی ہے جب کہ ان کے ہاتھ جراثیم کش محلول سے صاف کرائے جاتے ہیں۔

15:42 29.4.2020

پاکستان میں موجود غیر ملکیوں کے ویزوں میں توسیع

پاکستان میں موجود غیر ملکیوں کے ویزے میں 30 جون 2020 تک توسیع کر دی گئی۔

وزارت داخلہ نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری بندشوں کے سبب ویزوں کی مدت میں توسیع کی۔

رپورٹس کے مطابق غیر ملکیوں کے ویزوں میں توسیع سے متعلق تمام متعلقہ اداروں کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

17:08 29.4.2020

بلوچستان میں کرونا سے 44 ڈاکٹرز بھی متاثر

بلوچستان میں کرونا وائرس سے 44 ڈاکٹرز، 22 پیرا میڈیکس اور 4 نرسز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ جن کو قرنطینہ کرکے علاج شروع کر دیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر سلیم ابڑو نے وائس آف امر یکہ سے گفتگو کے دوران کہا کہ جو بھی ڈاکٹر وبا سے متاثر ہوتے ہیں ان کو 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔ اُس کے بعد وہ دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر آ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت 44 ڈاکٹرز متاثر ہو چکے ہیں لیکن لوگوں کے علاج کا سلسلہ چل رہا ہے کیونکہ اگر ایک ڈاکٹر بیمار ہوتا ہے تو اُس کی جگہ پر دوسرا کام شروع کر دیتا ہے۔

ان کے بقول صوبے میں ڈاکٹروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے تر جمان عبدالرحیم بابر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کے احتجاج کے بعد بھی صرف 30 فی صد ڈاکٹروں حفاظتی کٹس دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے کرونا وائرس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ نہ ہی اس کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل تیار کیا۔

بلوچستان میں اس وقت کرونا سے متائر افراد کی تعداد 940 ہو چکی ہے جب کہ وبا سے پانچ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG