میانمار: اندرونی طور پر بے دخل ساڑھے تین لاکھ افراد میں وبا پھیلنے کا خطرہ
میانمار میں اندرونی طور پر بے دخل ہونے والے لگ بھگ تین لاکھ 50 ہزار افراد کو کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ بے دخل افراد انتہائی بھیڑ کی حالت میں اور بعض اوقات صفائی ستھرائی سے مکمل طور پر عاری حالات میں رہ رہے ہیں۔
سفری سہولتوں کی عدم دستیابی اور لاک ڈاؤن کے دوران ان کی خوراک، امداد اور معلومات تک رسائی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔
کاچن ریاست میں قائم کیمپ میں کرونا وائرس کے اثرات سب سے زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ کیمپ میانمار کی افواج اور آزادی پسند کاچن ملیشیا کے درمیان 17 برس سے جاری جنگ بندی ختم ہونے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔
میانمار کے شہر مائے کینا میں طویل عرصے سے آباد رہائشی روز مرہ کی اجرتی مزدوری پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کرونا وائرس سے آمدنی ختم ہونے سے خطرہ ہے۔
افغانستان میں مصدقہ کیسز کی تعداد 1939 ہو گئی
افغانستان کی وزارت صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 10 صوبوں میں کرونا وائرس کے 110 نئے کیسز کی تصدیق کی ہے۔
نئے کیسز سامنے آنے کے بعد افغانستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1939ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر واحد اللہ مائر نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ اب تک کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 60 ہو چکی ہے جب کہ 252 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیوں کہ افغانستان میں ابھی وبا اپنی انتہا کو نہیں پہنچی۔
'ہوائی سفر پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے میں طویل عرصہ لگے گا'
یورپ کی ہوا بازی کی کمپنی ایئر بس کا کہنا ہے کہ ہوا بازی کی صنعت کرونا وائرس کے باعث شدید بحران سے دوچار ہے جب کہ ہوائی سفر پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے میں طویل عرصہ لگے گا۔
سفری پابندیوں اور لوگوں کے گھروں میں محدود رہنے کے باعث ہوائی سفر میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے۔
ایئر بس نے سال کی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہزاروں ملازمین کو فرلو پر بھیجنے اور گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 40 جہاز کم فراہم کرنے سے اسے 52 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔
جرمنی میں کار ساز کمپنیوں میں پیداوار دوبارہ شروع
مختلف ممالک کی حکومتیں کاروبار پر پابندیوں کو بتدریج نرم کرتے ہوئے پیداواری شعبے پر توجہ دے رہی ہیں تاکہ لوگوں کو روزگار میسر آ سکے۔
جرمنی میں متعدد کار ساز کمپنیوں نے سماجی فاصلے کی پابندی پر عمل کرتے ہوئے پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے۔ جرمنی نے اسٹورز جیسے کاروبار پر بھی پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اسٹورز میں آنے والوں کے لیے ماسک پہننا لازم ہو گا۔
برلن کے رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کے صدر لوتھر ویلر کا کہنا ہے کہ ہم سب کو احتیاط کرنا ہو گی تاکہ یہ وائرس مز ید پھیلنے نہ پائے۔