- By نذر الاسلام
'اقتصادی طور پر پاکستانی شہريوں کو شديد دھچکا لگا ہے'
ملک ميں کرونا وائرس کے حوالے سے وفاقی وزير منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے گزشتہ دو ماہ کی صورت حال کا جائزہ لينے کے حالات کو تسلی بخش قرار ديا۔
اسلام آباد ميں نيشنل کمانڈ اينڈ کنٹرول سينٹر ميں ميڈيا سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے واضح کيا کہ پاکستان ميں اگرچہ باقی ماندہ دنيا کی نسبت ہلاکتيں بہت کم ہوئی ہيں تاہم اقتصادی طور پر پاکستانی شہريوں کو شديد دھچکا لگا ہے۔
انہوں نے بتايا کہ حکومت نے ملک بھر ميں احساس پروگرام کے تحت رقوم تقسيم کی ہيں جب کہ مزيد اقدامات کیے جا رہے ہيں۔
وزيراعظم کے خصوصی معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتايا کہ اب تک پاکستان ميں 480 طبی عملے کے ارکان کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتايا کہ پاکستان ميں کرونا وائرس کے حوالے سے صرف چار ٹيسٹنگ ليبارٹريز تھيں جو کہ اب بڑھ کر 52 ہو گئيں ہيں۔
ايک سوال کے جواب ميں اسد عمر نے بتايا کہ پاکستان ميں کرونا وائرس کی وبا اس تيزی سے ابھی تک نہيں پھيلی ہے جيسا کہ اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ اس لیے حکومت آئندہ آنے والے دنوں ميں شہريوں کو مزيد ريليف دينے کا ارادہ رکھتی ہے۔
- By سدرہ ڈار
رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کے اہلخانہ بھی کرونا کا شکار
ایک ہفتہ قبل صوبائی رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد وہ احیتاط سیلف آئسولیشن میں چلے گئے۔ تاہم، آج انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا ہے کہ اس وقت انکی فیملی کے آٹھ افراد اس وائرس سے متاثر ہیں، جن میں ان کی والدہ، اہلیہ، بچے اور بہنیں شامل ہیں۔ اہل خانہ کے ٹیسٹ کروانے کی وجہ عبدالرشید نے خود میں وائرس کے مثبت ہونے کی وجہ بتائی جس کے بعد فیملی کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے۔
عبدالرشید کے مطابق، ان کے اہل خانہ کی طبیعت ٹھیک ہے اور تمام افراد سیلف ائسولیشن میں ہیں۔
سید عبدالرشید کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور وہ لیاری کے حلقے سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ کرونا وائرس کے دوران وہ الخدمت کے زیر انتظام فلاحی سرگرمیوں میں خاصے فعال بھی رہے۔ عبدالرشید جماعت اسلامی کے ضلع جنوبی کے امیر بھی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کے بھائی جواد شعیب کا کہنا تھا کہ اس وبا کے دوران ان کے بھائی نہ صرف ریلیف کے کاموں میں سرگرم رہے، بلکہ دو ہفتہ قبل انھوں نے لیاری جنرل اسپتال کے کرونا وائرس سے متاثر مریضوں سے ملاقات کے لئے اسپتال کا دورہ بھی کیا تھا جس میں وہ تمام تر حٖفاظتی اقدامات کے تحت وارڈ میں مریضوں سے ملنے کے لئے گئے۔
اس کے علاوہ عبدالرشید نے اندرون سندھ، خصوصاً سکھر کے قرنطینہ کا بھی دورہ کیا تھا۔ سفر سے واپسی پر انھیں بخار اور تھکاوٹ تھی، جس کے پیش نظر ان کے اہل خانہ نے ان سے ٹیسٹ کروانے کو کہا جس پر انکا رزلٹ مثبت آیا۔ جواد شعیب کے مطابق، خاندان کے مزید اکیس افراد کا ٹیسٹ کرلیا گیا ہے جن کے تنائج آنا باقی ہیں۔ تاہم، اس وقت انکے وائرس سے متاثرہ اہل خانہ کی طبیعت بہتر ہے اور علامات کم ہونے کے سبب گھر ہی میں قرنطینہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔
کیا امریکہ میں معاشی سرگرمی جلد بحال ہوسکے گی؟
کرونا وائرس کا آسیب جب کہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے، مختلف ریاستوں کے گورنر وائرس کی تباہ کاریوں اور اس کے اقتصادی اثرات کے درمیان ایک لکیر کھیچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے بندش کی وجہ سے جس طرح معیشت برباد ہوئی ہے اور بیروزگاری میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے، اس کے پیش نظر بعض امریکی ریاستوں میں اب کاروبار پر بندش کو آہستہ آہستہ نرم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ گرچہ اس بارے میں تشویش اپنی جگہ موجود ہے کہ وائرس کے کیسز میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔
وائس آف امریکہ کے نامہ نگار برائن پیڈن نے اپنی رپورٹ میں یاد دلایا ہے کہ امریکہ میں پچپن ہزار سے زیادہ لوگ اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں اور تقریباً دس لاکھ کو یہ انفکیشن لگ چکا ہے۔ اس کے اقتصادی اثرات کے نتیجے میں دو کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ امریکی اب تک روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
حیات بعد از کرونا
علامہ اقبال نے کہا تھا ’آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہی۔ محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی'۔
آج اگر واقعی دنیا پر نگاہ ڈالی جائے تو بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لب سچ پر کھلنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ لیکن دنیا بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ شہر ہوں یا ان کی تفریح گاہیں۔ ہوٹل ہوں یا ریستوراں۔ پارک ہوں یا ساحل، جہاں کبھی رونقیں ہوتی تھیں قہقہے گونجتے تھے، بچوں کی چہچہاہٹیں کانوں میں رس گھولتی تھیں اب وہاں ویرانیوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
پہلے لوگ جب ملتے تھے تو تپاک سے ملتے تھے۔ لیکن اب اگر سر راہ ملاقات بھی ہو جائے اور غلطی سے قربت ہو نے لگے تو ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں، گلے ملنا تو کجا ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے۔
ڈاکٹر بشیر بدر نے تو شاید ایک مخصوص شہر کے لئے کہا ہو گا کہ:
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو
لیکن آج تو شہر شہر، قریہ قریہ، یہ ہی صورتِ حال ہے۔ نہ کوئی ہاتھ ملاتا ہے۔ نہ گلے ملتا ہے۔ بلکہ دوسرے کو دیکھ کر دور بھاگتا ہے۔