رسائی کے لنکس

logo-print

حیات بعد از کرونا


علامہ اقبال نے کہا تھا ’آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہی۔ محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی'۔

آج اگر واقعی دنیا پر نگاہ ڈالی جائے تو بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لب سچ پر کھلنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ لیکن دنیا بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ شہر ہوں یا ان کی تفریح گاہیں۔ ہوٹل ہوں یا ریستوراں۔ پارک ہوں یا ساحل، جہاں کبھی رونقیں ہوتی تھیں قہقہے گونجتے تھے، بچوں کی چہچہاہٹیں کانوں میں رس گھولتی تھیں اب وہاں ویرانیوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

پہلے لوگ جب ملتے تھے تو تپاک سے ملتے تھے۔ لیکن اب اگر سر راہ ملاقات بھی ہو جائے اور غلطی سے قربت ہو نے لگے تو ایک دوسرے سے دور بھاگتے ہیں، گلے ملنا تو کجا ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتے۔

ڈاکٹر بشیر بدر نے تو شاید ایک مخصوص شہر کے لئے کہا ہو گا کہ:

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو

لیکن آج تو شہر شہر، قریہ قریہ، یہ ہی صورتِ حال ہے۔ نہ کوئی ہاتھ ملاتا ہے۔ نہ گلے ملتا ہے۔ بلکہ دوسرے کو دیکھ کر دور بھاگتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے ڈین ڈاکٹر چاولہ کا یہی کہنا ہے کہ تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ جب اس قسم کی بڑی وبائیں آتی ہیں۔ بڑے واقعات رونما ہوتے ہیں تو اس دوران جو کچھ ہوتا ہے اسکا اثر آنے والے وقت پر پڑتا ہے۔ بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔ لوگوں کے سماجی روئے بدل جاتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے، ڈاکٹر چاولہ نے کہا کہ آج ہم روز مرہ کے رویوں میں تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ انسان انسان سے خوفزدہ نظر آتا ہے۔ اور جب یہ وبا ختم ہو جائے گی تب بھی لگتا ہے کہ یہ روئے مستقل ہو جائیں گے۔ خاص طور پر اعلیٰ طبقے، اپر مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کے درمیان تفریق بڑھ جائے گی اور معاشرے خانوں میں بٹ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سیاست پر بھی اس کے گہرے اثرات پڑیں گے۔ اس وقت سپرپاور کا جو تصور ہے، اس میں تبدیلی آجائے گی۔ اور کرونا جو کچھ کرکے جائے گا، اس سے مغرب کے لئے خصوصی طور پر اور پسماندہ ملکوں کے لئے عمومی طور پر بڑے چیلینج پیدا ہونگے، جو معاشی بھی ہونگے اور سماجی بھی۔ ان سے نمٹنے میں عرصہ لگے گا، اور بظاہر نظر یہ آتا ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا کرونا سے پہلے کی دنیا نہیں رہے گی۔

تاہم، انسٹیٹیوٹ اف ہسڑوریکل اینڈ سوشل رسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید جعفر احمد اس حوالے سے کچھ مختلف انداز فکر رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تاریخی طور پر تو اتنے بڑے واقعات کے بعد معاشرتی اقدار تبدیل ہوتی ہیں۔ انسانی رویوں میں تبدیلی آتی ہے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں یہ تبدیلی آئے گی معاشی، سیاسی اور سماجی مساوات یا عدم مساوات کے حوالے سے یہ تبدیلیاں رونما ہونگی۔

لیکن، پاکستان جیسے ملکوں میں وہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھتے، کیونکہ ایک ایسے وقت میں جبکہ یہ وبا اپنے عروج پر ہے، لوگ سائنس، طب اور سائنسی منطق کو ماننے اور سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اس کا جیتا جاگتا ثبوت بازاروں اور دوکانوں کی بھیڑ بھاڑ ہے۔

ڈاکٹر جعفر نے کہا کہ ملک میں جو ایک غالب بیانیہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، جس کا آج مظاہرہ ہر سطح پر نظر آتا ہے، خواہ وہ عوامی سطح ہو، سرکاری سطح ہو یا مذہبی رہنماؤں کی سطح ہو۔

تاریخ کا حوالہ تو یقینی طور پر سامنے ہے مگر حقیقت میں کیا ہوگا اس پر ابھی اسرار کے پردے پڑے ہیں۔ کرونا سے پیدا ہونے والی مایوسیوں کے اندھیرے اور وہ جو احمد فراز نے کہا تھا کہ:

رات جب کسی خورشید کو شہید کرے

تو صبح ایک نیا سورج تراش لاتی ہے

دیکھیں اس تاریکی کے بعد کونسا خورشید طلوع ہوتا ہے۔ فی الحال تو صورت حال بشیر۔ بدر کے اس شعر کے مصداق ہے کہ:

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو

کوئی شام گھر بھی رہا کرو

اب تو کیا شام اور کیا صبح، گھر ہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG