- By شمیم شاہد
خیبر پختونخوا میں خصوصی آرڈیننس: خاندان کا سربراہ زیرِ کفالت افراد میں وبائی مرض کی اطلاع دے گا
خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت خاندان کے سربراہ کو پابند کیا جائے گا کہ زیر کفالت افراد میں کسی کو بھی اگر وبائی مرض لاحق ہوا تو وہ انتظامیہ کو آگاہ کرنے کا پابند ہو گا۔
خیبر پختونخوا کی کابینہ کا اجلاس وزیرِ اعلیٰ محمُود خان کی زیرِ صدارت میں جمعرات کو ہوا۔ اجلاس میں حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں لاک ڈاؤن میں میں بعض اداروں کی تعطیل میں 15 مئی تک توسیع کی گئی جب کہ کابینہ نے کرونا ریلیف آرڈیننس کی بھی منظوری دی۔
اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے کہا کہ کابینہ نے آرڈیننس کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے خاندان کے سربراہان کو زیر کفالت افراد کے متاثر ہونے کی صورت میں اطلاع دینے کا پابند کیا جائے گا جب کہ آرڈیننس کی خلاف ورزی پر سزائیں اور جرمانے بھی تجویز کیے گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس میں صوبے کے مختلف علاقوں میں مویشی منڈیاں کھولنے پر اتفاق ہوا۔ اجلاس میں دودھ کی دکانیں 4 بجے کے بعد بھی کھلی رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس تاحکم ثانی بندرہیں گے۔ تمام سیاحتی مقامات تاحکم ثانی بند رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کرونا سے ہلاک ہونے والے فرنٹ لائن ورکرز یعنی طبی عملے وغیرہ کے لیے 70لاکھ روپے کے پیکج کی بھی منظوری دی۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ چھ ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے تعلیمی ادارے فیسوں میں 20 فی صد رعایت دیں گے جبکہ چھ ہزار سے کم فیس وصول کرنے والے 10 فی صد رعایت دیں گے۔
اجلاس میں طے پایا کہ مالک کرایہ دار کو کرائے کی عدم ادائیگی کی صورت میں تین ماہ تک کے لیے بے دخل نہیں کر سکے گا۔
جنوبی کوریا میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، معمولات زندگی کی جلد بحالی کی اُمید
کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل جنوبی کوریا میں جمعرات کو کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ جس کے بعد حکام معمولات زندگی کی جلد بحالی کی اُمید کر رہے ہیں۔
جنوبی کوریا میں فروری کے وسط میں کرونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ جس کے بعد جنوبی کوریا خطے میں چین کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا تھا۔
جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے ملک میں کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونے پر کہا کہ یہ عوام کے عزم کا عکاس ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا نے بڑے پیمانے پر شہریوں کی ٹیسٹنگ کی۔ اس کے علاوہ سماجی پابندیوں پر بھی سختی سے عمل کیا گیا۔
'شام میں وائرس پھیل گیا تو بڑی تباہی ہو گی'
اقوام متحدہ کے انسانی بھلائی کے امدادی ادارے کے سربراہ مارک لوکوک نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ اگر کرونا وائرس شام میں پھیل گیا تو اس سے وسیع پیمانے پر تباہی ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ شام میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام 10 برس سے جاری لڑائی کے دوران تباہ ہو کر رہ گیا ہے اور یہ کرونا وائرس کی روک تھام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
شام میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 43 بتائی جاتی ہے اور اس سے اب تک تین ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ تاہم شام میں ٹیسٹنگ کی سہولت زیادہ تر دستیاب نہیں ہے۔ مذکورہ متاثرہ افراد کی شناخت محض دارالحکومت دمشق اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شام میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور وہ زیادہ تر ایسی حالت میں رہ رہے ہیں جہاں ایک ہی جگہ پر بہت سے افراد رہائش پذیر ہیں۔ ایسے افراد کے تحفظ کے لیے کوئی انتظامات موجود نہیں ہیں۔
ملک میں باغیوں کے آخری مضبوط گڑھ ادلب میں سرحد پار ترکی سے مدد پہنچ رہی ہے۔ مارک لوکوک کا کہنا ہے کہ مارچ کے آغاز میں اس علاقے میں ترکی اور روس کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے پر زیادہ تر عمل جاری ہے۔ تاہم انسانی بھلائی کی امدادی کارروائیاں بدستور مشکل کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شام میں کچھ ہسپتالوں میں تبدیلی کرتے ہوئے کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے انہیں تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
افغانستان میں کرونا وائرس کے مزید 232 کیس رپورٹ
افغانستان کی وزارتِ صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کرونا وائرس کے مزید 232 کیسز کی تصدیق کی ہے۔ جس کے بعد مریضوں کی کل تعداد 2171 ہو گئی ہے۔
وزارتِ صحت کے نائب وزیر واحداللہ مجروح نے پیش گوئی کی ہے کہ کابل میں خاص طور پر کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر لوگوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو یہ وائرس مزید پھیل سکتا ہے۔
افغانستان میں وائرس سے اب تک 64 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اب تک 232 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
وزارتِ صحت نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے نو قیدیوں میں وائرس کی تصدیق کی ہے۔ افغانستان میں جیل انتظامیہ کے ترجمان فرہاد با یانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ پل چرخی جیل میں 75 افراد کے ٹیسٹس کے نتائج کا انتظار ہے۔ جبکہ 40 قیدیوں میں وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ تاہم حتمی نتائج کا انتظار ہے۔
فرہاد بایانی نے بتایا کہ دوسرے صدارتی حکم نامے کے تحت نو سو قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔ پہلے حکم کے تحت چھ ہزار سے زائد قیدی رہا ہوئے ہیں جن میں 455 طالبان قیدی بھی ہیں۔