کرونا وائرس: کراچی کا علاقہ لیاری 'ہاٹ اسپاٹ' کیوں بنا؟
کراچی شہر کی گنجان ترین اور قدیم بستی، لیاری ان دنوں کھیلوں، سیاسی گرمی یا گینگ وار کی لڑائی کے باعث نہیں بلکہ کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاو کی بنا پر خبروں میں ہے۔
یہاں صرف چند ہی دنوں میں 245 سے زائد کرونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان میں وہاں سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی سید عبدالرشید اور ان کے اہل خانہ کے علاوہ بزرگ، خواتین حتیٰ کہ بچے بھی شامل ہیں۔ اور اس تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
محکمہ صحت کے افسران کے مطابق، سب سے زیادہ کیسز لیاری کی بہار کالونی اور بغدادی کی یونین کمیٹیوں میں سامنے آئے ہیں، جہاں ان مریضوں کی تعداد درجنوں میں بتائی جاتی ہے۔ صرف بدھ کے روز ہی شہر کے ضلع جنوبی میں 72 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق لیاری سے بتایا جاتا ہے۔
امریکہ میں 6 ہفتوں کے دوران 3 کروڑ افراد بیروزگار
امریکہ کے محکمہ محنت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ملک بھر میں مزید 38 لاکھ افراد نے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دی ہے۔ اس طرح چھ ہفتوں میں روزگار سے محروم ہونے والوں کی تعداد تین کروڑ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے وسط مارچ میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ، چوتھے میں 52 لاکھ اور پانچویں ہفتے میں 44 لاکھ شہریوں نے روزگار کھویا تھا۔
امریکہ کی ورک فورس 15 کروڑ افراد پر مشتمل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں ہر پانچ میں سے ایک شخص ذریعہ آمدن سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔
اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ نے ایک حالیہ تجزیے میں کہا ہے کہ 15 مارچ سے 18 اپریل کے درمیان کم از کم 89 لاکھ مزید افراد بیروزگار ہوئے۔ لیکن، وہ پیچیدہ عمل ہونے کی وجہ سے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست نہیں دے سکے۔
دیگر معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مزید لاکھوں وہ تارکین وطن ہیں جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں یا جو قانونی قیام تو رکھتے ہیں، لیکن بیروزگاری الاؤنس کے اہل نہیں۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے: رپورٹ
پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم نے ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وبا کی عالمی وبا کی وجہ سے مستقبل میں انسانی حقوق پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انسانی حقوق کے غیر سرکاری ادارے، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی طرف سے 2019ء میں ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق جمعرات کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، سماجی و معاشی امتیاز نے ملک کے محروم ترین طبقات کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے نا تو وہ نظر آرہے ہیں، نہ ہی اُن کی آواز سُنی جا رہی ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوررن ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ پیش کرتے ہوئے، رپورٹ میں ملک میں مجموعی طور پر انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایچ آر سی پی کی طرف سے اسلام آباد اور لاہور میں ایک ساتھ جاری ہونے والی رپورٹ کے موقعے پر کمیشن سے وابستہ انسانی حقوق کے سرگرم کارکن آئی اے رحمان نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے انسانی حقوق کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
لاک ڈاؤن میں لاکھوں غیر مطلوبہ حمل ٹھہرنے کا خدشہ
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس دنیا بھر میں خواتین پر ایک اور انداز سے بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے بچے پیدا ہوں گے جن کی خواہش ہے، نہ ہی طلب؛ چونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں خواتین اب خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے خاندانی منصوبہ بندی کے ادارے، یو این ایف پی اے کی ایکزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹر نتالیہ خانم نے کہا ہے کہ نئے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جلد ہی دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیوں پر کوویڈ 19 کے بڑے پیمانے پر اثرات ظاہر ہونے والے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ عالمی وبا ناہمواری اور عدم مساوات کو مزید گہرا کر رہی ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں خواتین اور لڑکیاں کرونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے خاندان کی منصوبہ بندی اور اپنے بچوں اور ان کی صحت کا تحفظ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، کیونکہ ان کی رہنمائی کرنے اور سہولتیں فراہم کرنے والے مراکز بند پڑے ہیں، یا ان میں بہت کم سطح پر کام ہو رہا ہے۔