رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

02:44 1.5.2020

کرونا وائرس: اس سال یوم مئی کیسا ہوگا؟

یکم مئی کو ہر سال مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جب محنت کشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کی جاتی ہے۔ اس موقع پر بڑی بڑی ریلیاں عام روایت رہی ہیں، لیکن اس سال کرونا وائرس کی وجہ سے صورتحال مختلف ہے۔

اس عالمگیر وبا نے دنیا بھر میں معیشت کو جس طرح تاراج کیا ہے اس کی وجہ سے یوم مئی کی تقریبات اور احتجاجی جلوس اس کی نذر ہوگئے ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں جب کرونا کی وبا نے دنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں تباہی مچا رکھی ہے اور انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اقتصادی ڈھانچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور بڑی تعداد میں کارکن بیروزگار ہو رہے ہیں۔ محنت کی بین الاقوامی تنظیم (آئی ایل او) نے انتباہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب لوگ اپنی روزی روٹی سے محروم ہو سکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار ہیری ریج ویل اپنی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ یکم مئی کو ہونے والے روایتی مظاہرے اس سال لاک ڈاون کی وجہ سے نہیں ہوپائیں گے، جبکہ ساتھ ہی کرونا کی عالمگیر وبا معیشت کو مستقل روندتی چلی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیے

02:46 1.5.2020

کاروبار جلدی کھولنے والے کہیں مشکل میں نہ پڑ جائیں، ڈاکٹر فاؤچی

وبائی امراض کے ماہر اور وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر فاؤچی نے خبردار کیا ہے کہ معیشت کو جلدی کھولنے سے وبا کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔

امریکہ میں کئی ریاستوں کے گورنر کاروبار کھولنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاؤچی نے انھیں مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کے پاس کرونا وائرس کے تمام مریضوں کا پتا لگانے کی صلاحیت نہ ہو تو جلدی نہ کریں۔

این بی سی کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ''ایسا نہ ہو کہ آپ ایک جست لگائیں لیکن ایسی صورتحال میں پھنس جائیں کہ پھر واپسی کی خواہش پر مجبور ہوجائیں۔ میں اس بارے میں فکرمند ہوں۔ مجھے امید ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے''۔

وفاقی حکومت کی سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی ہدایت یکم مئی کو ختم ہوجائے گی اور صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس میں توسیع کا ارادہ نہیں رکھتے۔ بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اس کا جواز یہ پیش کیا کہ اب گورنرز خود اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔

ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ جو ریاستیں کاروبار کھولنا چاہتی ہیں انھیں وفاقی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے اور اسی صورت میں معیشت کھولنی چاہیے جب نئے کرونا وائرس کیس مسلسل دو ہفتے سے کم ہو رہے ہوں۔

کئی ریاستوں میں کرونا وائرس کے کیس کم نہیں ہو رہے۔ لیکن وہ کاروبار کھولنے والی ہیں۔

ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کا اس قابل ہونا ضروری ہے کہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا تمام افراد کی شناخت اور انھیں قرنطینہ کرسکیں اور ان سے تعلق رکھنے والوں پر نظر رکھ سکیں، کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعد میں مسائل پیش آئیں گے۔

ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ ہم ویکیسن جلد تیار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن، یہ بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ وہ محفوظ اور موثر ہو۔ جلدبازی میں بڑی تعداد میں کوئی ویکیسن بنالیں اور وہ کام نہ کرے تو کیا فائدہ۔ لیکن اگر سب کچھ ٹھیک ہوتا رہے یعنی ویکسین جلد بن جائے تو یہ ممکن ہے کہ 2021 کے آغاز تک وہ بڑی مقدار میں دستیاب ہوجائے۔

02:49 1.5.2020

بچے بھی کرونا کی زد میں آ سکتے ہیں: ماہر معالج

کرونا وائرس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ زندگی لاک ڈاؤن میں چلی گئی۔ سماجی فاصلے کی پابندی نے رشتوں کو دوردور سے مسکرانے تک محدود کر دیا۔ مگر اس پورے عرصے میں والدین کیلئے ایک بات اطمینان کا باعث رہی کہ اس وائرس سے بچے متاثر نہیں ہو رہے۔

لیکن، جب اعداد و شمار جمع کئے گئے تو پتا چلا کہ بچے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہے۔ بلکہ ایک سے سترہ سال تک کے بچوں میں بھی کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ کئے گئے۔ البتہ، ان میں علامتیں اتنی شدید نہیں تھیں جتنی کہ اٹھارہ سے چونسٹھ برس کے لوگوں میں نظر آئیں۔

امریکی نیٹ ورک سی این این کے مطابق، برطانیہ میں پیڈیٹرک انٹینسیو کیئر سوسائٹی نے نیشنل ہیلتھ سروس انگلینڈ کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جن میں کچھ ایسی علامتیں پائی گئی ہیں کہ جو ان کے جسم میں خون کے نظام کے ساتھ دیگر اعضا کو بھی متاثر کر رہی ہیں اور بچوں کو انتہائی نگہداشت میں رکھنا پڑ رہا ہے۔

مزید پڑھیے

02:51 1.5.2020

روس میں مریض ایک لاکھ، اموات ایک ہزار سے زیادہ

کرونا وائرس سے بدترین متاثر اٹلی، اسپین اور فرانس میں اموات کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ لیکن، امریکہ اور برطانیہ میں وبا کا زور برقرار ہے۔ روس میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ اور اموات ایک ہزار سے بڑھ گئی ہیں، جبکہ جنوبی امریکہ کے ملکوں میں صورتحال رفتہ رفتہ خراب ہو رہی ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، جمعرات تک 212 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 33 لاکھ اور ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار سے زیادہ ہوچکی تھی۔

24 گھنٹوں کے دوران امریکہ میں برطانیہ میں 674، برازیل میں 390، فرانس میں 289، اٹلی میں 285، اسپین میں 268، کینیڈا میں 184، میکسیکو میں 163، جرمنی میں 156، سویڈن میں 124، پرو میں 108 اور روس میں 101 مریض دم توڑ گئے۔ ترکی میں 93، بیلجیم میں بھی 93، نیدرلینڈز میں 84، بھارت میں 75 اور ایران میں 71 مریض چل بسے۔

امریکہ میں جمعرات کو 2201 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد کل تعداد 63856 تک پہنچ گئیں۔ ملک میں کرونا وائرس کے 63 لاکھ 90 ہزار ٹیسٹ ہوچکے ہیں جن میں 10 لاکھ 95 ہزار مثبت آئے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG