کرونا بحران افغانستان اور پاکستان کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ
گرچہ افغانستان اور پاکستان کو مختلف اندرونی چیلنجز درپیش ہیں، دونوں ممالک کو کرونا وائرس کے بحران کو ایک قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھ کر نمٹنے کی کوششیں کرنا ہوگی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے ماہرین نے ایک آن لائن مباحثے میں کہا کہ کوڈ 19 محض صحت عامہ کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ بحران دونوں ممالک میں اقتصادی اور امن و امان کے معاملات کو بگاڑ سکتا ہے۔
واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام اس مباحثے میں امریکی، پاکستانی اور افغان ماہرین نے موجودہ صورتحال پر اپنی آرا کا اظہار کیا۔
گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے،انسٹیٹیوٹ کے افغانستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر، مارون وائن بام نے دونوں ملکوں کی صورتحال بیان کی اور کہا کہ کرونا وائرس کی وبا نے دونوں ممالک کو ایک ایسے وقت میں متاثر کیا ہے جو دونوں ہی کے لیے بہت اہم ہے۔
صحت یاب افراد کے پلازمہ سے بیمار لوگوں کا علاج
کرونا وائرس کچھ لوگوں کو زیادہ اور کچھ کو کم بیمار کیوں کرتا ہے؟
پاکستان میں مریض 16817 اور اموات 385 ہوگئیں
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 990 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 24 مریض دم توڑ گئے ہیں۔
ملک بھر میں ایک لاکھ 82 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں 16817 مثبت آئے ہیں۔ اموات کی کل تعداد 385 تک پہنچ گئی ہے۔