کرونا وائرس سے افغان امن عمل متاثر ہونے کا خدشہ
امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس کے سبب افغان امن عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ امریکی کانگریس کو دی گئی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی وبا کے دوران غذائی قلت، جنگ اور دیگر خطرات سے دوچار ہونے کے سبب افغانستان کا ناقص نظام صحت تباہی کے دہانے پر ہے۔
جمعرات کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کے بعد امریکی حکام کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ عالمی وبا سے افغانستان میں جاری امن کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق افغانستان کی تعمیر نو کے لیے مقرر اسپیشل انسپکٹر جنرل (سیگار) جان سوپکو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ایک طرف افغان امن عمل متاثر ہو رہا ہے تو دوسری طرف سرحدیں بند ہونے سے تجارتی سرگرمیوں میں بھی خلل پڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کا ناقص نظام صحت، وسیع پیمانے پر پھیلی غذائی قلت، غیر محفوظ سرحدیں، لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ جاری کشیدگی سے آنے والے ہفتوں میں افغانستان کا طبی نظام مفلوج ہو سکتا ہے۔
چین سب سے زیادہ متاثرہ 10 ملکوں کی فہرست سے نکل گیا
چین کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ملکوں کی فہرست سے نکل گیا ہے۔ جمعے کو برازیل 87 ہزار 187 کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں دسویں نمبر پر آ گیا ہے۔
چین میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ، لیکن معیار پر سوال کیوں؟
چین میں کرونا وائرس کی وبا کا زور ٹوٹنے کے بعد معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اسکولز، دفاتر اور دیگر مقامات پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعاون سے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
چین میں معمولات زندگی کی جزوی بحالی کے بعد کمپنیاں، اسکول اور انفرادی سطح پر لوگ بھی ٹیسٹنگ کے اس عمل سے گزر رہے ہیں۔ البتہ ناقدین ٹیسٹنگ کٹس کے معیار پر سوالات بھی اُٹھا رہے ہیں۔
چین میں بڑے پیمانے پر 'اینٹی باڈی ٹیسٹنگ' کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس ٹیسٹ سے یہ تعین ہوتا ہے کہ آیا کوئی شخص کرونا وائرس سے متاثر ہوا یا نہیں۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق چین کی ٹیکنالوجی کمپنی 'سینا' نے ایک اسکول میں خصوصی ٹیسٹنگ روم قائم کر رکھا ہے۔ جہاں کلاس روم جانے سے قبل کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے طلبہ کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔
پشاور کے اسپتال میں 'پیسو امیو نائزیشن' سے کرونا کا علاج
پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلکس کی انتظامیہ نے کرونا کے متاثرہ مریضوں کا 'پیسو امیونائزیشن' یعنی کرونا سے صحت یاب ہونے والے مریض کے خون میں موجود پلازما سے علاج شروع کر دیا ہے۔
اسپتال نے اس ضمن میں کراچی میں قومی ادارہ برائے امراض خون کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی کی نگرانی میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے پلازما لے کر متاثرہ مریضوں کو لگایا جائے گا۔
اس طریقہ کار کا مقصد متاثرہ مریضوں میں بھی وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنا ہے۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ نے اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ جو لیبارٹری میں اس طریقہ کار پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔
ابتداً اسپتال میں شعبہ امراض قلب کے ڈاکٹر سلمان نے رضاکارانہ طور پر اپنے خون کا نمونہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر سلمان کرونا سے متاثر ہو کر صحت یاب ہو چکے ہیں۔