بھارت: یوم مئی، کرونا اور بیروزگاری کی صورت حال
کروناوائرس کے سبب بھارت میں نافذ 40 روزہ لاک ڈاون نے جہاں عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، وہیں سب سے زیادہ متاثر وہ لاکھوں مزدور ہیں جو دیہی علاقوں سے دوسری ریاستوں میں جا کر کام کرتے ہیں۔
یوم مئی کے عالمی دن کے موقع پر، مزدور نیشنل ہائی وے 24 پر جو کہ کم از کم ایک درجن ریاستوں سے گزرتا ہے اور دوسری سڑکوں پر بھی لانگ مارچ کر رہے ہیں۔ لاک ڈاون نے ان کی زندگی میں بری طرح اتھل پتھل مچا دی ہے اور وہ بے روزگاری کے شکار ہو کر بھوکے لوگوں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔
مزدوروں کی متعدد تنظیموں کی جانب سے اس بار یوم مئی مختلف انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پروگراموں کا انعقاد تو ہو رہا ہے، لیکن ان میں سماجی فاصلے کا بھی خیال رکھا جا رہا ہے۔
مزدوروں کے لیے کام کرنے والوں کے ایک گروپ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاون کے دوران مزدوروں اور گھروں میں کام کرنے والے ملازموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر یکم مئی بروز جمعہ صبح سے شام تک کا برت رکھیں۔
بھارت: لاک ڈاون میں مزید دو ہفتوں کی توسیع
بھارتی حکومت نے کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاون میں مزید 14 دنوں کی توسیع کر دی ہے۔ دوسرے مرحلے کے لاک ڈاون کی مدت 3 مئی کو ختم ہو رہی تھی۔
حکومت نے اس اعلان کے ساتھ ہی اقتصادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام اضلاع کو گرین، اورینج اور ریڈ زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔ گرین زون میں پابندیاں کم اور ریڈ زون میں زیادہ ہوں گی۔
وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق، غیر ضروری سرگرمیوں کے لیے لوگوں کی آمد و رفت شام سات بجے سے صبح کے سات بجے تک معطل رہے گی۔
بیان کے مطابق، اس پوری مدت میں 65 سال کی عمر سے اوپر کے بزرگ، بچے اور حاملہ خواتین گھروں میں رہیں گی۔ ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
آخری رسوم کی ادائیگی میں 20 سے زائد افراد کی شرکت کی اجازت نہیں ہوگی اور شادیوں میں زیادہ سے زیادہ 50 افراد شریک ہو سکیں گے۔
گرین زون میں پان اور شراب کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ گرین زون میں گھریلو ملازموں کی آمد و رفت کی بھی اجازت ہوگی۔
اورینج زون میں فور وہیلر پر ڈرائیور سمیت تین اور ٹو وہیلر پر دو افراد کی اجازت ہوگی۔ اسی شرط کے ساتھ بین الاضلاعی آمد و رفت کی بھی اجازت ہوگی۔
ہوائی، ریل اور میٹرو سروس اور بذریعہ سڑک بین الریاستی آمد و رفت پر تینوں زونس میں پابندی رہے گی۔ اسکول، کالج، ٹریننگ اور کوچنگ سینٹرس اور تعلیمی اداروں کے بھی کھلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہوٹل، ریسٹورینٹ، سنیما ہال، مالز اور جم بھی بند رہیں گے۔
ریڈ زون میں کچھ سرگرمیوں کی اجازت ہوگی جیسے کہ فور وہیلر میں ڈرائیور سمیت صرف دو افراد کی اجازت ہوگی، جبکہ ٹو وہیلر پر ایک ہی شخص جا سکے گا۔ دیہی علاقوں میں اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی۔
شہری علاقوں میں اقتصادی سرگرمیاں صرف اسپیشل اکانومک زون تک محدود رہیں گی۔ ضروری اشیا، ادویات اور ایکسپورٹ کی جانے والی اشیا کی مینوفیکچرنگ کی اجازت ہوگی۔
بھارت میں اپریل کے دوران ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی
عام حالات میں اس سے زیادہ عجیب کوئی خبر نہیں ہوسکتی تھی کہ ایک ارب 38 کروڑ آبادی والے ملک بھارت میں اپریل کے 30 دنوں میں ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی۔ لیکن کرونا وائرس بحران میں اس پر حیرت کا کوئی سوال نہیں۔
بھارت میں گاڑیاں بنانے والے سب سے بڑے ادارے، ماروتی سوزوکی انڈیا نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ اپریل میں مقامی سطح پر اس کا ایک بھی یونٹ فروخت نہیں ہوا۔ گزشتہ ماہ پورے بھارت میں لاک ڈاؤن تھا اور آٹو کمپنیوں کے پیداواری یونٹ بند رہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ مندرا بندرگاہ پر کام شروع ہونے کے بعد اس نے 632 گاڑیاں درآمد کی ہیں اور اس سلسلے میں تمام احتاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔
ایم جی موٹرز نے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ اپریل میں ڈیلرشپ کی بندش کے باعث اس کی ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوسکی۔
مہندرا اینڈ مہندرا نے بھی مقامی سطح پر کوئی گاڑی فروخت نہیں کی۔ لیکن، اس نے اپریل میں 733 گاڑیاں برآمد کی ہیں۔
مارچ کے دوران بھارت میں ایک لاکھ 97 ہزار اور فروری میں 3 لاکھ 71 ہزار گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔ 2018 کے دوران 44 لاکھ اور 2019 میں 38 لاکھ گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔
پاکستان میں بھی اس عرصے میں لاک ڈاؤن تھا۔ لیکن اپریل کے اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں آئے۔ مارچ میں ملک بھر میں 7264 اور فروری میں 12521 گاڑیاں فروخت کی گئی تھیں۔
امریکہ اور یورپ کرونا وائرس سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ لیکن، ان میں گاڑیوں کی فروخت صفر نہیں ہوئی۔ امریکہ کی کئی ریاستیں کھلی رہیں اور وہاں نئی گاڑیاں خریدی جاتی رہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ گاڑیوں کی فروخت میں 50 سے 60 فیصد کمی آئی ہے۔
کیا ڈزنی کے تفریحی پارکوں کی رونقیں لوٹ سکیں گی؟
کرونا وائرس سے جن بڑے کاروباروں کو شدید دھچکا لگا ہے، ان میں ڈزنی کے تفریح پارک بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، 2019 میں ڈزنی نے 6 ارب 80 کروڑ ڈالر کا منافع کمایا تھا، جب کہ موجودہ سال کا تخمینہ 500 ملین ڈالر اور اگلے سال کا محض 200 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ ڈزنی فلمیں اور کئی دوسری مصنوعات بھی تیار کرتا ہے۔
والٹ ڈزنی کے دنیا کے کئی ملکوں میں تفریحی پارک ہیں جو عالمی وبا کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ حال ہی میں ڈزنی نے شنگھائی میں قائم اپنے تفریحی پارک کو محدود پیمانے پر عوام کے لیے کھولنے کا تجربہ کیا ہے۔
اس موقع پر داخلے کے دروازوں پر ماضی کے برعکس لوگوں کی روایتی لمبی قطاریں نظر نہیں آئیں۔ پارک میں آنے والوں کے لیے ہدایت تھی کہ وہ ایک دوسرے سے 6 فٹ کے فاصلے پر رہیں اور اپنے چہرہ ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں۔