رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

12:04 4.5.2020

پاکستان میں سب سے زیادہ مریض پنجاب میں زیر علاج

کیسز

زیر علاج

ہلاکتیں

صحت یاب

پنجاب

752447331242667

سندھ

746557801301555

خیبرپختونخوا

31292138180811

بلوچستان

1218100021197

گلگت بلتستان

3641013260

کشمیر

7127044

اسلام آباد

415355456

12:07 4.5.2020

کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک

12:17 4.5.2020

پاکستان میں ایک روز میں ایک ہزار سے بھی زیادہ کیسز کی تصدیق

پاکستان میں کرونا وائرس کے مزید 1083 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 22 ہلاکتوں کے بعد مجموعی اموات 462 ہو گئیں۔ ملک بھر میں دو لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

12:44 4.5.2020

'کسی چیز میں شفافیت نہیں ہے'

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات سامنے آئے گی۔ کسی چیز میں شفافیت نہیں۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کرونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ماسک اور گلوز کیلئے کتنے پیسے خرچ کرنے کے لیے چاہیے۔ اگر بڑی تعداد میں خریدا جائے تو دو روپے کا ماسک ملتا ہے۔ ان چیزوں پر اربوں روپے کیسے خرچ ہورہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ادارے کیا کام کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری ہیلتھ سے حاجی کیمپ کے قرنطینہ سینٹر کے بارے میں استفسار تو ان کا کہنا تھا کہ جی میں وہاں گیا تھا بیڈز اور پانی موجود تھا لیکن بجلی نہیں تھی۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ حاجی کیمپ کو قرنطینہ سینٹر کس نے بنایا؟ جس پر سیکرٹری صحت کا جواب تھا کہ این ڈی ایم اے نے بنایا تھا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ این ڈی ایم اے کی رپورٹ آئی ہے لیکن ان کا کوئی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ کسی چیز میں شفافیت نظر نہیں آ رہی۔

بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان تعاون نہ ہونے کی وجہ غرور اور انا ہے۔

ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں کورونا کے حوالے سے یکساں پالیسی بنائی جائے۔ یکساں پالیسی نہ بنی تو عبوری حکم جاری کریں گے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG