- By شمیم شاہد
خیبر پختونخوا: طبی عملے میں شامل مزید 8 اہلکار کرونا سے متاثر
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق مزید 8 نرسز کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جس کے بعد صوبے میں وبا سے متاثرہ نرسز کی تعداد 48 ہو گئی ہے۔
نرسنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بھی گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 8 نرسز کے ٹیسٹ پازیٹیو آنے کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2 مئی تک صوبے میں 40 نرسز کرونا سے متاثر تھے۔ اب متاثرہ نرسز کی تعداد 48 ہو چکی ہے۔ متاثرہ نرسز میں 25 میل جب کہ 23 فی میل ہیں۔
ڈاکٹروں کی انجمن نے بھی صوبے میں کرونا سے متاثرہ ڈاکٹروں کی تعداد ایک درجن سے زائد بتائی ہے۔
- By محمد ثاقب
وائرس کا شکار ایک اور ڈاکٹر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہلاک
کراچی میں کرونا وائرس کا شکار ایک اور ڈاکٹر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہلاک ہو گیا۔
ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فرقان کی موت بروقت علاج نہ ہونے کے باعث ہوئی۔
ان کے بقول ملک بھر میں یہ پانچویں ڈاکٹر ہیں جو کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 200 کے لگ بھگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کرونا کا شکار ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر فرقان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز سے ریٹائر ہونے کے بعد ضیا الدین اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
ان کا شمار شہر کے معروف ریڈیولوجسٹ اور سینئر ڈاکٹرز میں ہوتا تھا۔
ان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ چار روز قبل انہیں سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کے بعد کرونا کی تشخیص ہوئی۔ انہیں گھر پر ہی قرنطینہ کیا گیا تاہم اتوار کے روز طبیعت زیادہ خراب ہونے پر انہیں کئی اسپتالوں میں لے جایا گیا جہاں کرونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کی سہولت موجود تھی لیکن ایمرجنسی روم میں وینٹیلیٹر خالی نہ ہونے کےباعث انہیں دوسرے اسپتال جانے کا مشورہ دیا جاتا رہا اور دو گھنٹے سے زائد ایمبولینس میں وقت گزارنے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی۔
دوسری جانب ڈاکٹر فرقان کے ایک اور قریبی رشتے دار نے بتایا کہ کرونا کی تشخیص کے باوجود ڈاکٹر فرقان سماجی دباؤ بڑھنے کے باعث اپنی بیماری ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ شروع میں اسپتال جانے سے گریز کرتے رہے تاہم آخری روز ان کی حالت بگڑنے پر جب انہیں اسپتال لے جایا گیا تو اس دوران شہر بھر میں کرونا مریضوں کو رکھنے والے اسپتالوں میں آئی سی یو میں کوئی بستر خالی نہ ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر وینٹی لیٹر پر نہ رکھا جاسکا۔
کراچی میں اس سے قبل ڈاکٹر عبدالقادر سومرو بھی کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ گلگت، راولپنڈی، پشاور میں بھی ایک ایک ڈاکٹر کی کرونا کے باعث ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
- By سہیل انجم
بھارت میں لاک ڈاون میں مزید دو ہفتوں کی توسیع
بھارت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاون میں دو ہفتوں کی توسیع کی گئی ہے۔
لاک ڈاون کا تیسرا مرحلہ آج سے شروع ہو گیا ہے جو 17 مئی تک چلے گا۔
اس دوران کرونا کے مثبت کیسز میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں کل مثبت کیسز کی تعداد 42456 جب کہ اموات 1390 تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کے مطابق 11442 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
تیسرے مرحلے کے لاک ڈاؤن میں ملک کو تین زون ریڈ، اورینج اور گرین میں تقسیم کیا گیا ہے۔
گرین اور اورینج زون میں پابندیاں کافی نرم کی گئی ہیں جب کہ ریڈ زون میں پابندیاں برقرار ہیں۔
- By علی فرقان
پاکستان میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کے بے روز گار ہونے کا اندیشہ
پاکستان کے منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے ملک میں معاشی بندشیں کرونا وائرس سے زیادہ مہلک ہیں۔ اس کے باعث ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔
کرونا وائرس کے حوالے سے قائم قومی رابطہ کمیٹی کے سربراہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں روزگار میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے۔ ملک بھر میں 10 لاکھ چھوٹے ادارے بند ہوچکے ہیں۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ معاشی بندشوں سے غربت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق معاشی بندشوں کی وجہ سے بھوک اور غربت کے چیلنجز مزید بڑھیں گے۔
وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ اپریل میں محصولات میں 119 ارب روپے کی کمی ہوئی جب کہ انہی محصولات سے ہمیں نظام کو چلانا اور غربت کم کرنی ہے۔
تجزیہ کار و معاشی محقق علی خضر کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث معیشت اور عوام پر اس کے منفی اثرات واضع ہو رہے ہیں تاہم ان کا حتمی اندازہ لگانا اسی وقت ممکن ہوسکے گا جب وبا کے خاتمے کی مدت کو تعین ہوسکے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہے کہ اگر حکومت لاک ڈاؤن ختم کرتی ہے تو بے روزگار ہونے والے افراد میں سے کتنوں کا روزگار بحال ہوسکے گا کیوں کہ بہت سے اداروں اور صنعتی یونٹس کو بحال ہونے میں طویل عرصہ درکار ہوگا۔
خیال رہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ 470 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور چھ دنوں میں روزانہ اوسطاً 24 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکہ اور دوسرے ممالک کو نہیں اپنے حالات کو دیکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ 9 مئی کے بعد سے کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے قومی رابطہ کمیٹی غور کر رہی اور اس ضمن میں صورت حال وفاقی کابینہ کے سامنے رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آئندہ دو روز میں کابینہ اجلاس بلا کر اس حوالے سے فیصلے کریں گے۔
معاشی تجزیہ کار علی خضر کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن جاری رکھنے یا کاروبار کو کھولنے کا فیصلہ آسان نہیں ہے اور اس حوالے سے فیصلہ سازی اور بیانیے میں ابہام دکھائی دیتا ہے۔