رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

02:32 5.5.2020

کرونا وائرس سے ایک لاکھ امریکی ہلاک ہوسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاستیں بتدریج لاک ڈاؤن ختم کرنے کے ساتھ عوام کو کرونا وائرس سے بھی محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا سے امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

اتوار کی شب، لنکن میموریل میں منعقدہ ایک ورچوئل ٹاؤن ہال میں امریکیوں کی جانب سے کئے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے، صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ اس معاملے پر دونوں جانب کے خوف و خدشات اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ ایک جانب وہ لوگ ہیں جو اس وائرس سے بیمار ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں، دوسری جانب وہ ہیں جو اپنی ملازمتوں کے ختم ہونے کے بعد اپنی روزی روٹی کیلئے پریشان ہیں۔

صدر ٹرمپ نے وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے حوالے سے اپنے گزشتہ چند ہفتے کے تخمینے یعنی 60 ہزار میں ترمیم کرتے ہوئے اب اسے ایک لاکھ کے عدد تک بڑھا دیا ہے۔ جانز ہاپکنز یونیوسٹی کے ڈیٹا کے مطابق، اب تک وائرس سے 69 ہزار امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیے

02:35 5.5.2020

کرونا وائرس سے اموات ڈھائی لاکھ، صحت یاب تقریباً 12 لاکھ

کرونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی لاکھ ہو گئی ہے جب کہ 363 لاکھ افراد اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں مریضوں کی تعداد 12 لاکھ اور اموات 69 ہزار سے زیادہ ہیں۔ یورپ میں ہلاکتوں میں مسلسل کمی جاری ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق اب تک 212 ملکوں اور خود مختار خطوں میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ پیر کو دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 36 لاکھ 30 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 51 ہزار سے بڑھ چکی تھی۔

24 گھنٹوں کے دوران فرانس میں 306، برطانیہ میں 288، برازیل میں 263، اٹلی میں 195، بھارت میں 175، اسپین میں 164 اور کینیڈا میں 160 مریض چل بسے۔ میکسیکو میں یہ تعداد 93، سویڈن میں 90، بیلجیم میں 80، روس میں 76، ایران میں 74، ترکی میں 64، پرو میں 58 اور جرمنی میں 52 تھی۔

امریکہ میں پیر کی سہہ پہر 776 اموات ہو چکی تھیں جب کہ 19 ہزار نئے کیسز کا علم ہوا تھا۔ ملک میں اب تک کرونا وائرس کے 74 لاکھ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں 12 لاکھ سے کچھ زیادہ مثبت آئے ہیں۔

مزید پڑھیے

02:50 5.5.2020

پاکستان میں مزید 1315 مریض، 24 اموات

پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 1315 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ اس میں مبتلا 24 افراد دم توڑ گئے ہیں۔ اس طرح اموات کی تعداد 486 تک پہنچ گئی ہے۔ اب تک ملک بھر میں 2 لاکھ 22 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں 21501 مثبت آئے۔

خیبرپختونخوا میں مریضوں کی تعداد سندھ اور پنجاب سے کم ہے لیکن وہاں سب سے زیادہ یعنی 185 اموات ہوچکی ہیں۔ سندھ میں 137 اور پنجاب میں 136 مریضوں کا انتقال ہوا ہے۔ بلوچستان میں یہ تعداد 21، اسلام آباد میں 4 اور گلگت بلتستان میں 3 ہے۔ آزاد کشمیر میں کسی کا انتقال نہیں ہوا۔

اب تک ملک میں 5782 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ان میں پنجاب کے 2716، سندھ کے 1629، خیبرپختونخوا کے 856، گلگت بلتستان کے 279، بلوچستان کے 197، اسلام آباد میں 56 اور آزاد کشمیر کے 49 شہری شامل ہیں۔

11:32 5.5.2020

فیس ماسک بنے خواتین کا ذریعہ روزگار

فائل فوٹو
فائل فوٹو

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لئے؟ یہ شعر محبت میں ناکام، گھر کے اندر بند رہنے والے شاعر قسم کے لوگوں کے لئے ہمیشہ حسب حال رہا ہے۔ لیکن کرونا کے بعد اب یہ شعر سب ہی کے حسب حال ہو گیا ہے، کیوں کہ اب نئے کپڑے پہننے کے مواقع اور حالات نہیں رہے۔

اور اب ان حالات میں اس شعر کو کچھ یوں استعمال کیا جا سکتا ہےکہ

"نئے ماسک خریدنے جائیں کہاں؟

اور فیس ماسک پہن کر جائیں کہاں؟ "

کیوں کہ مارکیٹس میں فیس ماسک کی شدید قلت ہے اور ملنے ملانے کے مواقع تو بالکل ہی ختم۔

تاہم چکوال میں فیس ماسک کا یہ مسئلہ حل کیا ہے، وہاں قائم ایک سکلز ڈیولپمنٹ سینٹر کی ہنر مند خواتین نے، جن کے لیے لاک ڈاؤن کے دوران فیس ماسک روزگار کا ایک نیا ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔

کرونا لاک ڈاؤن سے قبل یہ غریب مگر ہنر مند خواتین اس مرکز میں جا کر اسکول یونیفارمز، اسکول بیگز، ہینڈ بیگز اور لوگوں کے لباس تیار کر کے اپنا روزگار حاصل کرتی تھیں۔ لیکن اب اسکول بند، سماجی میل ملاپ بند، تقریبات بند، تو کہاں کا یونیفارم، کہاں کے اسکول بیگز، کہاں کے ہینڈ بیگز اور کہاں کے نئے کپڑے؟

لوگ نئے کپڑے پہن کر جائیں کہاں؟ کیوں کہ اب انہیں جہاں بھی جانا ہے نئے فیس ماسک پہن کر جانا ہے۔

تو چکوال والوں کے لیے یہ مسئلہ ہر دو صورت میں حل ہوا۔ اب وہ فیس ماسک خریدنے وہاں کے کسی بھی اسٹور پر جا سکتے ہیں اور نئے نکور فیس ماسک پہن کر محفوظ طریقے سے گھروں سے باہر اپنے ضروری کام انجام دینے کے محفوظ مواقع بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG