رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

12:48 5.5.2020

امریکہ نے ووہان کی لیبارٹری سے کرونا کے پھیلاؤ کے شواہد نہیں دیے: ڈبلیو ایچ او

فائل فوٹو
فائل فوٹو

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ امریکہ نے اب تک کرونا وائرس کے چین کے شہر ووہان کی لیبارٹری سے پھیلنے کے ثبوت فراہم نہیں کیے۔ اس لیے ثبوت کی عدم فراہمی تک یہ ایک دعویٰ ہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی حالات کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے پیر کو ورچوئل بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ کی حکومت نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیے جس سے اس دعوے کو تقویت مل سکے کہ کرونا وائرس چین کی لیبارٹری سے نکلا تھا۔ ہمارے نکتہ نظر سے یہ اب تک قیاس آرائی ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسی کوئی بھی معلومات حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں اس وائرس کی جنم بھومی سے متعلق بتایا گیا ہو۔

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کرونا وائرس جانوروں سے انسان میں منتقل ہوا ہے اور یہ ممکنہ طور پر چین کی اس مارکیٹ سے پھیلا ہے جہاں جنگلی جانوروں کا گوشت فروخت ہوتا تھا۔

تاہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار چین کو ٹھیرا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ مسلسل یہ بات کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے شواہد دیکھے ہیں کہ کرونا وائرس ووہان کی لیبارٹری سے ہی پھیلا ہے۔ تاہم چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

مزید پڑھیے

13:22 5.5.2020

کرونا وائرس: صحافی کن حالات میں کام کر رہے ہیں؟

کرونا وائرس کے ماحول میں صحافی بھی فرنٹ لائن ورکرز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں متعدد صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ عالمی وبا کے دوران صحافی کن حالات میں کام کر رہے ہیں اور انہیں کیا مشکلات درپیش ہیں؟ جانتے ہیں سدرہ ڈار کی ڈیجیٹل رپورٹ میں۔

'کرونا وائرس پھیلنے کا ڈر ذہنوں پر حاوی ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:58 0:00

14:10 5.5.2020

لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر سزائیں اور گرفتاریاں

دنیا کے بیشتر ممالک میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ کئی ملکوں میں خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر سزائیں دینے کے علاوہ قانون توڑنے والے افراد کو حراست میں بھی لیا جا رہا ہے۔


15:17 5.5.2020

کرونا وائرس تین مختلف اقسام میں تبدیل ہو چکا ہے

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی اور جرمنی میں محققین نے معلوم کیا ہے کہ عالمی وبا کی ابتدا میں کرونا وائرس تین مختلف اقسام میں ارتقا پزیر ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق کرونا وائرس پر تحقیق کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس وائرس کی تین مختلف اقسام پائی گئی ہیں۔

'نیشنل اکیڈمی آف سائنسز' میں شائع تحقیق میں 'کیمبرج یونیورسٹی' کی ٹیم نے لکھا ہے کہ چینی شہر ووہان میں ابتدائی طور پر جو وائرس انسانوں میں داخل ہوا وہ کرونا وائرس کا 'ٹائپ اے' ہے۔

یہی ٹائپ ووہان میں امریکی شہری میں پائے گئے تھے اور امریکہ میں متاثر ہونے والے بہت سے مریضوں میں بھی اس کا جینوم پایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق چینی شہر ووہان میں جس قسم نے زیادہ تر لوگوں کو متاثر کیا وہ وبا کی ٹائپ بی ہے۔ یہی قسم مشرقی ایشیائی ممالک میں پائی گئی مگر اس خطے سے آگے بہت زیادہ نہیں پھیلی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یا تو ووہان میں کوئی پیچیدہ واقع رونما ہوا یا کچھ اور عوامل ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے یہ قسم مشرقی ایشائی ممالک سے باہر زیادہ نہیں پھیلی۔

ماہرین کے مطابق ٹائپ سی وہ قسم ہے جو زیادہ تر یورپ میں پھیلی۔

اس قسم کے نمونے فرانس، اٹلی، سوئیڈن اور برطانیہ کے ابتدائی کیسز میں پائے گئے مگر یہ قسم چین میں نہیں دیکھی گئی۔

صحت اور طبی معلومات کی ویب سائٹ 'ہیلتھ لائن' نے لکھا کہ وائرس کی میوٹیشن یا تغیرات فی الوقت خطرناک نہیں ہیں۔ اٹلی اور نیویارک میں پائی جانے والی قسم ووہان میں پائی جانے والی قسم سے زیادہ ہلاکت خیز نہیں ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں اس بارے میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کی وجہ سے مختلف اقسام نظر آ رہی ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہ نئی اقسام پہلے سے موجود اقسام سے زیادہ خطرناک ہیں۔

ویب سائٹ 'میڈیسن نیٹ' کے مطابق سائنسدان کرونا وائرس میں پیدا ہونے والے تغیر پر غور کر رہے ہیں کیونکہ کمزور اقسام ویکسین کا کام بھی دے سکتی ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG