پاکستان میں ہلاکتوں اور نئے کیسز میں مسلسل اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس سے یومیہ ہلاکتوں اور نئے کیسز کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے سے 40 اموات اور 1049 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں مجموعی ہلاکتیں 526 ہو گئیں جب کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 22 ہزار 550 تک پہنچ گئی ہے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں خیبرپختونخوا میں 194 رپورٹ ہوئی ہیں۔ پنجاب میں 156 اور سندھ میں 148 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس سے اب تک بلوچستان میں 21، وفاقی دارالحکومت اسلام میں چار اور گلگت بلتستان میں تین اموات ہوئیں۔
صدر ٹرمپ کا کرونا وائرس ٹاسک فورس سے ذمہ داری واپس لینے کا اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کو ختم کرنے اور دوسرے مرحلے میں عالمی وبا کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے پر توجہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی صورتِ حال کو اب وفاقی ادارے دیکھیں گے اور وائٹ ہاؤس اداروں سے رابطے میں رہے گا۔
صدر ٹرمپ نے ٹاسک فورس کے سربراہ اور ملک کے نائب صدر مائیک پینس اور ان کی ٹیم سے متعلق کہا کہ "انہوں نے بہت شاندار کام کیا ہے۔"
صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ وہ اس موقع پر ٹاسک فورس کو کیوں ختم کر رہے ہیں جب ملک بھر میں کرونا کیسز سے ہلاکتوں اور نئے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؟ اس پر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو مزید پانچ سال تک کے لیے بند نہیں کر سکتے۔
کرونا کے باعث کرکٹ کی معطلی سے بورڈز کو مالی خسارہ
کرونا وائرس کے سبب عالمی سطح پر کرکٹ میچز کی معطلی سے کرکٹ بورڈز پریشان ہیں۔ صرف انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو موسم گرما میں میچز نہ ہونے کی وجہ سے 380 ملین پاؤنڈز کا خسارہ ہو گا۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹام ہیریسن کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال مقامی کلبس اور کرکٹ بورڈ کے لیے بدترین ہے۔ اگر مسلسل 800 دن تک کرکٹ کھیلی جائے تو ہی یہ نقصان پورا ہو سکے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ہیریسن نے برطانوی حکومت کی ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ اسپورٹس کمیٹی سے گفتگو کے دوران بتایا کہ کرکٹ سیزن دو اپریل کو شروع ہونا تھا لیکن کرونا وائرس کے سبب جولائی کے آغاز تک کوئی میچ نہیں کھیلا جاسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی ماہ سے کھیلوں کا کوئی ایک مقابلہ بھی نہیں ہو سکا ہے جس کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کو مالی خسارے کا سامنا ہے۔
مراکش میں ڈرونز کی مدد سے کرونا کا مقابلہ
کرونا وائرس کی وبا کے دنوں میں ڈرون ایک اہم ٹیکنالوجی بن کر سامنے آیا ہے۔ شمالی افریقی ملک مراکش میں عالمی وبا کا مقابلہ کرنے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
مراکش میں ڈورنز صرف حکومتی ہدایات کے تحت ہی فلموں کی شوٹنگ، زراعت، شمسی پینل کی نگرانی اور نقشہ سازی کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن اب یہی ڈورنز کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔
ڈرونز کے ذریعے کرونا سے متاثرہ علاقوں کی نگرانی کے علاوہ اس سے اسپرے اور عوامی اعلانات کے کام لیے جا رہے ہیں۔
مراکش میں مارچ سے جاری لاک ڈاؤن کی لوگ بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ رات کے وقت چھتوں پر اجتماعی عبادات جاری ہیں جب کہ گلی محلوں میں بھی لوگ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکل رہے ہیں۔