افغانستان میں ساڑھے تین کروڑ افراد کرونا کا شکار ہو سکتے ہیں: رپورٹ
دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ہجرت سے پیش آنے والے مسائل سے متعلق تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن (آئی او ایم) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان میں ناکافی انتظامات کے باعث ساڑھے تین کروڑ افراد کرونا وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال جنوری میں کرونا وبا کے آغاز سے اب تک دو لاکھ 71 ہزار افغان شہری ہمسایہ ممالک ایران اور پاکستان سے واپس آئے ہیں۔
ناکافی وسائل کے باعث بیشتر افراد کی واپسی پر کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اسکریننگ اور بیمار افراد کو قرنطینہ میں بھی نہیں رکھا جا سکا تھا۔
ادارے کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان میں کرونا کے تصدیق شدہ کیسز تین ہزار کے لگ بھگ اور پانچ مئی تک مرض سے 90 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ووہان میں بھی اسکول کھل گئے، تدریسی عمل بحال
چین کے شہر ووہان میں انتظامیہ نے اسکول کھول دیے ہیں جس کے بعد کئی ماہ سے تدریس کا معطل عمل دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ ووہان سے دسمبر 2019 میں کرونا وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا۔ جس کے بعد دنیا کا ہر خطہ اس سے متاثر ہوا ہے۔
ووہان میں بدھ کو اسکول کھلنے کے بعد طلبہ چہروں پر ماسک لگائے تھرمل اسکینرز سے گزرتے ہوئے اپنی اپنی کلاسز میں گئے۔
کلاسز میں طلبہ کو تین میٹرز کے فاصلے پر بٹھایا گیا تھا جب کہ کئی ماہ سے آن لائن کلاسز لینے والے اساتذہ بھی کلاسز میں موجود تھے۔
حکام نے ووہان میں اعلی تعلیم دینے والے تعلمی ادارے یا اسکول کھولنے کی اجازت دی ہے۔ ان اسکولوں میں زیادہ تر فنی تعلیم سی جاتی ہے یا یہاں وہ طالب علم ہوتے ہیں جنہوں نے جامعات میں داخلہ لینا ہوتا ہے۔ تاہم ثانوی یا چھوٹی کلاسز کی تدریس کی بحالی کے حوالے سے ابھی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ طلبہ یا تدریسی عملہ اسکول جانے سے قبل لازمی طور پر کرونا وائرس کا ٹیسٹ کروائیں گے۔ جب کہ تعلیمی اداروں میں بھی جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کیا گیا ہے۔
چین کے کئی بڑے شہروں میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے کھول دیے ہیں تاہم وہاں ہدایات پر سختی سے عمل کروایا جا رہا ہے۔