- By مدثرہ منظر
کیا نیویارک میں زندگی معمول پر آجائے گی؟
امریکہ میں طبی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کر کے بعض کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی ہے، مگر کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں اور موت کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ بدھ کے روز بھی امریکہ میں کووڈ نائنٹین کے مریضوں کی تعداد بارہ لاکھ سے متجاوز اور اموات اکہتر ہزار سے زیادہ ہیں۔
اسی دوران مختلف ریاستوں کے گورنر اپنے ہاں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں۔
نیویارک امریکہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سرِ فہرست ہے۔ ماہرین اس کی کئی وجوہات بتاتے ہیں۔ نیویارک گنجان آباد ہے، یہاں کے بین الاقوامی ائیرپورٹ کرونا وائرس کے خطرات کے باوجود کھلے رہے، اس کا زیرِ زمین ریل کا نظام یا سب وے سسٹم جلد بند نہ کیا جا سکا۔ اس کی آبادی میں تنوع امریکہ کی باقی ریاستوں سے زیادہ ہے۔
کیا کرونا وائرس کی ایک سے زیادہ اقسام گردش میں ہیں؟
امریکی حکومت کی جانب سے کروائی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کی ایک نئی لہر آئی ہے جو اس سے پہلے کی مثالوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
لاس ایلموس نیشنل لیبارٹری کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وائرس کی نئی قسم ابتدائی صورت سے مختلف ہے اور یورپ میں تین ماہ پہلے اس کا پتا چلا تھا۔
یہی تبدیل شدہ وائرس امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں پہنچا اور وسط مارچ سے اسی نے دنیا میں زیادہ لوگوں کو بیمار کیا ہے۔
تحقیق کے نتائج لکھنے والے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ ویکسین اور دوائیں بنانے والوں کو متنبہ کرنے کی فوری ضرورت ہے، تاکہ وہ وائرس کی نئی قسم کا موثر حل تیار کریں۔
ایران میں مساجد کھل گئیں لیکن 15 صوبے دوبارہ وائرس کی لپیٹ میں
اتوار کو ایرانی صدر حسن روحانی نے پیر سے 132 علاقوں میں مساجد کھولنے کا اعلان کیا۔ ان علاقوں میں کرونا کا زور نسبتاً کم ہے اور یہ سفید زون کہلاتے ہیں۔
صدر روحانی نے وسط اپریل سے ایران میں معمول کی زندگی واپس لانے کے عمل کو شروع کیا تھا۔ پرائمری تعلیم کے نائب وزیر رضوان حکمت زادے نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ سفید زون میں سولہ مئی سے سکول کھل سکتے ہیں۔
منگل کو جاری ہونے والی سرکاری رپورٹ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے اور سوا چھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت صحت نے یہ بھی بتایا کہ 31 صوبوں میں سے 15 صوبوں میں کرونا وائرس کی دوسری لہر آئی ہے۔
جیلوں میں حفظان صحت کے منافی حالات وائرس کے پھیلاؤ کا سبب
انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر نے متنبہ کیا ہے کہ شمالی اور جنوبی امریکہ کی جیلوں میں حفظان صحت کے منافی صورتحال اور طبی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے کرونا وائرس متعدد جیلوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے عہدیداروں نے واضح اعداد و شمار تو پیش نہیں کئے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ خطے بھر کی جیلوں میں بند ہزاروں قیدی اس وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ قیدیوں میں اس وبا کے لگنے اور مناسب طبی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے بہت سی جیلوں میں دنگے فساد ہوئے ہیں۔
خبروں کے مطابق، یکم مئی کو وینزویلا کے ایک قید خانے میں وقوع پزیر ہونے والے ایک واقعے میں، 47 قیدی ہلاک ہو گئے ہیں۔ پیرو اور کولمبیا کی جیلوں میں ہونے والے دنگوں میں قیدی ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کیلئے اقوام متحدہ کے دفتر کے ترجمان، رُپرٹ کول وِل کا کہنا ہے کہ غیر معیاری صورتحال کی بِنا پر ارجنٹینا، برازیل، کولمبیا، میکسیکو اور امریکہ کے قیدخانوں سے بہت سے قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی ہے۔