لاک ڈاؤن مرحلہ وار کھلے گا: وزیر اعظم عمران خان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک بھر میں مرحلہ وار لاک ڈاؤن ختم کیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہر شعبہ کھولنے کے لیے ایس او پیز بنائیں گے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر اس مشکل وقت سے نکلنا ہے تو عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا۔ اگر لوگوں نے احتیاط نہ کی تو ہمیں پھر سخت لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ پوری دنیا شرائط کے تحت لاک ڈاؤن ختم کر رہی ہے۔ لہذٰا پاکستانی قوم کو بھی ان شرائط یا ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو کھلنا چاہیے۔ پیسے والے لوگ تو اپنی گاڑیوں میں سفر کر رہے ہیں۔ لیکن غریب آدمی کے لیے یہی سفر کا ذریعہ ہے۔
وزیر اعظم بولے کہ بیرون ممالک سے سوا لاکھ پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ اُن کی واپسی پر اُنہیں قرنطینہ میں رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں۔
لہذٰا ہونا تو یہ چاہیے کہ بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانی 'سیلف آئسولیشن' گھروں میں ہی اختیار کریں۔
پاکستان میں دکانیں سحری کے بعد سے شام پانچ بجے تک کھولنے کا فیصلہ
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے لاک ڈاؤن کھولنے سے متعلق فیصلوں سے متعلق آگاہ کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے مشاورت سے کیے گئے ہیں۔ چھوٹی دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ گلی محلوِں، دیہات اور ایسی دکانیں جہاں لوگوں کا زیادہ رش نہیں ہوتا، اُنہیں کھولا جائے گا۔
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کے بقول جن صنعتوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں الیکٹرک، سرامکس، ایلومینیم، پینٹ شاپس، ٹائیلز، ہارڈ ویئر شامل ہیں۔ البتہ بڑے شاپنگ مالز بدستور بند رکھنے ہی کا فیصلہ ہوا ہے۔
وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ سحری کے بعد دکانیں کھولنے کی اجازت ہو گی، جو شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی۔ یہ دکانیں ہفتے میں دو روز بند بھی رہیں گی۔ البتہ، خوراک سے متعلقہ دکانیں اور میڈیک اسٹورز پورا ہفتہ کھلے رہیں گے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کے آؤٹ ڈور شعبہ جات کھولنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اسکول کی چھٹیوں میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔
پاکستان میں تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے اب 15 جولائی تک بند رکھے جائیں گے۔
تمام بورڈز امتحانات نہیں لیں گے، گزشتہ تعلیمی سال کی کارکردگی پر بچوں کو اگلی کلاسوں میں پروموٹ کیا جائے گا۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز میں داخلے گیارہویں جماعت کے نتائج جب کہ کالجز میں داخلے نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
شفقت محمود کے بقول یہ فیصلہ بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ تمام فیصلے چاروں صوبوں کی مشاورت سے کیے گئے ہیں۔