فضائی کمپنیوں کی احتیاطی تدابیر، ماسک کا استعمال لازمی
کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں عالمی پیمانے پر معیشت کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، اس میں تمام صنعتیں شامل ہیں۔ ان میں ہوائی بازی کی صنعت بھی شامل ہے اس لئے کہ طیاروں کی آمد و رفت کا سلسلہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور اس کے نتیجے میں ہوائی اڈے ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ اور نہایت محدود بنیاد پر مسافروں کی پروازیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
اس منظر میں بڑی فضائی کمپنیوں نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اب تمام مسافروں کے لئے ماسک کا استعمال لازمی ٹھہرا ہے۔ عارضی بنیاد پر بعض ائیرلائنز نے درمیانی نشستوں کو احتیاطاً خالی رکھنے کا اہتمام کیا ہے، تاکہ مسافروں کے درمیان ضروری فاصلہ برقرا رہے۔ اس کے لئے الگ سے پیسے دینے ہوں گے جبکہ بعض صورتوں میں اس کے لئے اضافی رقم نہیں لی جائے گی۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ائیرلائنز پرواز کے دوران کھانے پینے کی اشیا اور مشروبات کی فراہمی بھی معطل کر رہی ہیں، تاکہ ایک دوسرے سے رابطے کو محدود کیا جا سکے۔ ان فضائی کمپنیوں میں دوسری کمپنیوں کے علاوہ جیٹ بلو، امریکن ائیرلائن، یونائٹیڈ، ساوتھ ویسٹ، فرنٹئر اور لفتھینزا شامل ہیں۔
کرونا وائرس بحران سے نمٹنے میں غریب ملکوں کو مشکلات
اقوامِ متحدہ نے غریب ممالک میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے دو ارب کی جگہ اب چھ اشاریہ سات ارب ڈالر کی اپیل کی ہے۔ اس نئی اپیل میں نو مزید ممالک، جن میں پاکستان، بینین، جبوٹی، لائیبیریا، موزمبیق، فلپائن، سیری لیون، ٹوگو اور زمبابوے کو شامل کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ رقم کروڑوں زندگیوں کو وائرس کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے ضروری ہے۔
انسانیت کی فلاح سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کا جمعرات کے روز کہنا تھا کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں آئندہ تین سے چھہ ماہ تک کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شدت بڑھنے کی توقع نہیں ہے۔ لیکن، وہاں ابھی سے لوگ اپنی ملازمتوں اور روزی روٹی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ وہاں خوراک کی رسد مین بھی کمی آتی جا رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے پہلے دو ارب ڈالر کی اپیل کی تھی۔ تاہم، جمعرات کے روز اس کا کہنا تھا کہ اُسے اب چھہ اشاریہ سات ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
پاکستانی امریکی اقتصادی چیلنج سے نمٹنے کے لیے کوشاں
گزشتہ تقریباً نصف صدی، جب سے میں نے امریکہ کو اپنا گھر بنایا ہے، پہلی بار میں بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینےکا سوچ رہا ہوں۔
یہ الفاظ ہیں پاکستانی امریکی شہری، شہزاد چوہدری کے جو ان لاکھوں پاکستانی تارکین وطن میں شامل ہیں جو کامیابی کا خواب سجائے امریکہ آتے ہیں اور محنت و مشقت سے اپنے اور اپنے خاندان کے لئے ایک بہتر مستقبل کی جستجو کرتے ہیں۔
شہزاد چوہدری جو کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں خودکار ملازم ہیں، ان تین کروڑ تیس لاکھ امریکی شہریوں میں شامل ہیں جن کے لیے کرونا وائرس کے بحران کے نتیجے میں آمدنی کے ذرائع اچانک منجمد ہوگئے۔
بیروزگاری کے رجحان کے حوالے سے حال ہی میں دو رپورٹیں سامنے آئیں۔ روزنامہ دی واشنگٹن پوسٹ کے ایک سروے کے مطابق، 77 فی صد بے روزگار افراد یقین رکھتے ہیں کہ انہیں ان کی کھوئی ہوئی ملازمتیں واپس مل جائیں گی، جبکہ شکاگو یونیورسٹی کے بیکر فریڈمین انسٹیٹیوٹ کے مطابق، روزگار کے 42 فیصد مواقع یکسر ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
کرونا وائرس: 39 لاکھ کیسز، 23 لاکھ بیمار، 13 لاکھ شفایاب
دنیا بھر میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد جمعے کو 39 لاکھ تک پہنچ گئی۔ ان میں سے 23 لاکھ افراد اب بھی بیمار ہیں، جبکہ 13 لاکھ 30 ہزار شفایاب ہوچکے ہیں۔ باقی 2 لاکھ 70 ہزار مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 85 ہزار سے زیادہ نئے مریض اور پانچ ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔
برطانیہ میں 539، برازیل میں 466، اٹلی میں 274، اسپین میں 213، میکسیکو میں 197، فرانس میں 178، کینیڈا میں 172، جرمنی میں 107 اور بھارت میں 104 مریض دم توڑ گئے۔ مزید سات ملکوں میں پچاس سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں جن میں سویڈن، پرو، نیدرلینڈز، بیلجیم، ایران، روس اور ترکی شامل ہیں۔
امریکہ میں جمعرات کی شام تک 1900 اموات ہوچکی تھیں جس کے بعد مجموعی تعداد ساڑھے 76 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ ملک میں کرونا وائرس کے 78 لاکھ ٹیسٹ ہوچکے ہیں جن میں 12 لاکھ 87 ہزار مثبت آئے ہیں۔