اوبر نے 3700 ملازم نکال دیے، لوگ سفر نہیں کر رہے، کمپنی کا موقف
اوبر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے 3700 کل وقتی ملازموں کو برطرف کررہی ہے جو اس کی کمپنی کی کل تعداد کے 14 فی صد کے مساوی ہے۔
اوبر کا کہنا ہے کہ ملازمتیں ختم کرنے پر اس لیے مجبور ہونا پڑا، کیونکہ لوگ کرونا انفکشن کے ڈر سے گھروں سے باہر نہیں نکل رہے۔ اور جب وہ باہر نکلتے بھی ہیں تو حتی الوسع یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسرو ں سے کم سے کم ملیں اور کسی اور کی گاڑی میں سفر نہ کریں۔
اوبر ٹیکسی کے متبادل سہولت ہے۔ ان کمپنیوں میں گاڑیاں رکھنے والے لوگ اپنا نام رجسڑ کراتے ہیں اور اپنی سہولت کے مطابق سواریاں اٹھاتے ہیں۔ کمپنی کے ایپ پر جا کر لوگ گاڑی کا آرڈر دیتے ہیں اور قرب و جوار میں موجود سواری اٹھانے کا خواہش مند گاڑی والا آرڈر قبول کر لیتا ہے۔ اس طرح سواری کو جلد گاڑی مل جاتی ہے اور گاڑی والے کو کچھ اضافی رقم حاصل ہو جاتی ہے۔
کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ نہ صرف گھر سے باہر نکلنے سے اجتناب کر رہے ہیں بلکہ اس وائرس کے خطرے کے پیش نظر کسی دوسرے شخص کی گاڑی میں بھی نہیں بیٹھتے۔
سان فرانسسکو میں قائم اوبر کمپنی کو 3700 ملازم نکالنے سے 2 کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی۔ کمپنی نے کہا ہے کہ اس کے جو کارکن اور ڈرائیور کرونا سے متاثر ہوئے ہیں، ان کی مدد کے لیے 14 دن تک کی تنخواہ دی جائے گی۔
پاکستان میں ایک روز میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں جیسے جیسے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ویسے ہی متاثرین کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ سامنے آ رہا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں 11 ہزار 993 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جب کہ ملک بھر میں اس دوران 1764 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
پاکستان بھر میں کرونا وائرس سے 594 افراد ہلاک اور 25 ہزار 837 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے شکار 7530 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
عالمی وبا سے سب سے زیادہ صوبہ پنجاب متاثر ہوا ہے جب مریضوں کی تعداد 10 ہزار 33 ہے جب کہ سندھ میں 9093، بلوچستان میں 1725، خیبرپختونخوا میں 3956، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 558، گلگت بلتستان میں 394 اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 78 افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔
سندھ میں نمازِ جمعہ کے اوقات میں مکمل لاک ڈاؤن
پاکستان کے صوبے سندھ میں دن 12 بجے سے ساڑھے تین بجے تک مکمل لاک ڈاؤن برقرار رکھا جائے گا۔
محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران عوام کی نقل و حرکت پر پابندی ہو گی جب کہ کریانہ اور ڈیری کی دکانوں سمیت استثنا حاصل کاروبار بھی ساڑھے تین گھنٹے بند رہے گا۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران نماز جمعہ کے اجتماعات کو محدود رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے اور مساجد میں زیادہ سے زیادہ پانچ افراد نماز جمعہ ادا کرسکیں گے باقی لوگ گھر میں نماز ادا کریں۔
سندھ حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ محکمہ داخلہ کے ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کریں۔
کرونا وائرس کی لپیٹ میں آگئی تھی مگر اب صحت یاب ہوں: میڈونا
کرونا وائرس نے امریکہ کی 'کوئن آف پاپ' گلوکارہ میڈونا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ تاہم اب وہ صحت یاب ہو گئی ہیں۔
میڈونا نے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا انکشاف سماجی میڈیا پلیٹ فارم 'انسٹاگرام' پر اپنی پوسٹ میں کیا ہے۔
میڈونا کا کہنا ہے کہ بیماری کے سبب ہی انہوں نے پیرس میں رواں سال 10 مارچ کو ہونے والا کنسرٹ منسوخ کیا تھا۔ جب کہ فروری میں منعقدہ کنسرٹ میں انہوں نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ پرفارم کیا تھا۔
امریکی پاپ گلوکارہ میڈونا کا پوسٹ میں کہنا تھا کہ مارچ کے ابتدا میں انہیں نزلہ و زکام ہوگیا۔ جو اس قدر شدید تھا کہ ان کی طبیعت بری طرح بگڑ گئی۔