رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

15:52 8.5.2020

جولائی تک صوبے میں کرونا کے 11 لاکھ مریض ہو سکتے ہیں: ڈی جی ہیلتھ بلوچستان

ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ بلوچستان سلیم ابڑو نے خبردار کیا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد نہ ہوا تو تین جولائی تک تین لاکھ اور اگر صورتِ حال برقرار رہی تو 11 جولائی تک بلوچستان کے 11 لاکھ افراد کرونا سے متاثر ہو جائیں گے۔

کوئٹہ میں جمعرات کو رات گئے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر سلیم ابڑو نے بتایا کہ کرونا سے اب تک صوبے میں 24 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر افراد کرونا کے علاوہ دوسرے امراض میں بھی مبتلا تھے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کے پاس دو پی سی آر مشینیں ہیں جس کی وجہ سے روزانہ تین سے چار سو تک ٹیسٹ ہو رہے تھے۔ اب این ڈی ایم اے کی طرف سے مزید جدید آلات ملنے سے روزانہ کی بنیاد پر 800 کے قریب ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔

این ڈی ایم اے بلوچستان کو مزید پانچ ٹیسٹ مشینیں دے گا جس کے بعد روزانہ 2500 تک ٹیسٹ کیے جا سکیں گے۔

انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ بلوچستان میں 15 سے 20 دن کے لیے کرفیو لگا دیا جائے۔ کیوں کہ وائرس کے مقامی سطح پر منتقلی کے کیس بڑھ رہے ہیں۔ اُنہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ 11جولائی تک صوبے میں 11 لاکھ اور دسمبر تک صوبے کے 95 لاکھ افراد کرونا سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

سلیم ابڑو نے بتایا کہ بلوچستان کے 73 ڈاکٹرز کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایک سینئر ڈاکٹر وینٹی لیٹر پر ہیں۔

سلیم ابڑو کے بقول علما کا کردار بھی زیادہ بہتر نہیں ہے وہ تعاون نہیں کر تے۔ جمعے اور تروایح کے اجتماعات میں ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لاک ڈاؤن ختم کرنے یا نرمی کے حوالے سے وفاق کے فیصلوں کے پابند نہیں ہیں۔ اُن کے بقول صوبہ بلوچستان لاک ڈاؤن ختم کرنے یا اس میں نرمی کا متحمل نہیں ہے۔ کیوں کہ محکمہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

لیاقت شاہوانی نے کہا کہ اگر تاجروں نے حکومت سے تعاون نہ کیا اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔ اگر دکانداروں نے زبردستی دکانیں کھولنے کی کوشش کی تو حکومت کو کرفیو لگانا پڑے گا۔

15:58 8.5.2020

ہفتے اور اتوار کو سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن ہو گا: وزیر اعلٰی سندھ

وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ قومی رابطہ کمیٹی کے تحت کیے جانے والے فیصلوں پر عمل درآمد کریں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن پیر سے ہٹا دیں گے۔

کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بڑی مارکیٹس بند رکھنے کا فیصلہ ہمارا نہیں بلکہ وفاقی حکومت کا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں چھوٹی دکانیں کھولی جا سکیں گی۔ وفاق سے کہوں گا کہ چھوٹے تاجروں کو آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں۔

وزیر اعلٰی سندھ نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کے احساس پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیکڑوں افراد کو ایک جگہ جمع کر کے پیسے دینے کا طریقہ غلط تھا۔

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ فجر سے شام پانچ بجے تک دکانیں کھولنے کے فیصلے پر عمل کریں گے۔

17:10 8.5.2020

ایران میں کرونا وائرس وبا کے دوران زلزلے سے تباہی

ایران میں کرونا وائرس کے ساتھ ساتھ زلزلے نے تباہی مچا دی ہے اور ہزاروں افراد تہران میں سڑکوں پر نکل آئے۔ جس سے کرونا وائرس سے بچنے کی خاطر سماجی فاصلے کی پابندی برقرار رکھنا بھی مشکل ہو گیا۔ اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے دارالحکومت تہران میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادھر آسٹریلیا نے آج جمعہ کے روز سے لاک ڈاؤن کی پابندیاں تین مرحلوں میں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر پینس کا ہر روز کرونا وائرس ٹیسٹ کیا جائے گا۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کے عملے کے ایک رکن کا ٹیسٹ مثبت آنے پر اٹھایا گیا ہے۔

ادھر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے باعث بے روز گاری کی شرح 16 فی صد تک پہنچ سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر افریقہ میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا نہ گیا تو اس بر اعظم میں چار کروڑ چالیس لاکھ افراد اس وائرس میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور یہاں ہلاکتوں کی تعداد 190,000 تک پہنچ سکتی ہے۔

ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ میں افریقہ کے 47 ممالک میں موجود صورت حال کا احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ افریقہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح پہلے سال کے دوران دنیا کے دیگر علاقوں سے کم رہنے کی توقع ہے، تاہم خدشہ ہے کہ افریقہ میں کرونا وائرس شدت کے ساتھ باقی دنیا سے زیادہ دیر تک جاری رہ سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے افریقی خطے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ماتشی دیسوموئیٹی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس آئندہ آنے والے کئی برسوں تک ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ رہ سکتا ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیسٹ بڑھائے جائیں۔

ڈاکٹر موئیٹی کا کہنا ہے کہ اگر افریقہ میں کرونا وائرس زور پکڑ گیا تو استپالوں کی استعداد بحران کا شکار ہو سکتی ہے اور اگر اس وائرس کی روک تھام اب نہ کی گئی تو بعد میں اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

17:20 8.5.2020

بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی مرحلہ وار واپسی جاری ہے: دفترِ خارجہ

پاکستان کی دفترخارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بیرون ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن وایس کے لیے چار مرحلے مکمل ہو چکے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگلے مرحلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔ ترجمان کے بقول اس وقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 75 ہزار پاکستانی شہری وطن واپسی کے خواہش مند ہیں۔

یادر ہے کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی بیرون ممالک میں کام کررہے ان میں سے 23 لاکھ صرف سعودی عرب جبکہ متحدہ عرب امارت میں 13 لاکھ پاکستان روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔

کرونا کے باعث کئی افراد کے روزگار ختم ہو گئے ہیں، لیکن فلائٹ آپریشن بند ہونے سے وہ مذکورہ ملکوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اب تک ایک لاکھ سے زائد پاکستانی شہری وطن واپسی کے خواہاں ہیں۔ جن میں سے متحدہ عرب امارت سے 60 ہزار جبکہ سعودی عرب سے 16 ہزار پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اب تک 19 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG