'اسمارٹ لاک ڈاؤن نے کام کرنا شروع کر دیا ہے'
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسے نظام کی ضرورت ہے کہ معیشت کا پہیہ بھی چلتا ہے جب کہ لوگوں کو وبا سے تحفظ بھی حاصل ہو۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ پورے ملک کو بند کرنے کے بجائے وبا سے متاثرہ مخصوص علاقے بند کیے جائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے اکثر ممالک اسی جانب جا رہی کہ لوگوں سے زیادہ عرصے تک ان کا روز گار نہیں چھینا جا سکتا۔
اسد عمر نے کہا کہ زمینی سطح پر اقدامات پر عمل در آمد کروانا صوبوں کا کام ہے۔
وبا پر کنٹرول کے حوالے سے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 70 لیبارٹرز میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ ان لیبارٹرز کی استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔
مدرز ڈے پر پھولوں کا بازار کھول دیا گیا
امریکہ میں سب سے زیادہ پھول ماؤں کے عالمی دن پر فروخت ہوتے ہیں۔ اس لیے مدرز ڈے پر پھولوں کا بازار کھول دیا گیا۔ لاس اینجلس کے پھولوں کے بازار میں خریداروں کا رش نظر آیا۔ حکام نے صرف ہول سیل مارکیٹ کھولنے کی اجازت دی تاہم عام اسٹورز کو پک اپ یا ڈلیوری کرنےکی اجازت مل سکی۔
تین اعلیٰ امریکی عہدیدار وائرس کے خدشے کے پیش نظر قرنطینہ میں چلے گئے
امریکہ میں تین انتہائی اعلیٰ عہدیدار کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر خود قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وائٹ ہاؤس کی کرونا رسپانس ٹیم کے اہم رکن ڈاکٹر انتھونی فاؤچی، سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ اور فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر اسٹیفن ہان اس لیے قرنطینہ میں گئے ہیں کیوں کہ ان کا عملے کے ان ارکان سے سامنا ہوا تھا جن میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز کے مطابق ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کو وائرس پائے جانے کے کم درجے پر رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کی عمر 79 سال ہے۔ ان کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیزکے ڈائریکٹر کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔
کرونا وائرس بحران میں امریکی قانون ساز کیسے کام کر رہے ہیں؟
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں لیکن سینیٹ کے ارکان اس ہفتے کام پر واپس آ گئے ہیں۔ البتہ ایوانِ نمائندگان کے ارکان اب بھی گھروں سے کام کر رہے ہیں۔ اس وبا کے ایام میں امریکی قانون ساز اپنا کام کیسے جاری رکھے ہوئے ہیں؟ دیکھیے اس رپورٹ میں