- By علی فرقان
پاکستان کے تین ارکان قومی اسمبلی میں کرونا وائرس کی تصدیق
پاکستان کی پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل اراکین اسمبلی اور سیکریٹریٹ اسٹاف میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
قومی ادارہ صحت کے مطابق تین اراکین اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ قومی اسمبلی کے تین ملازمین بھی اس وبا میں مبتلا پائے گئے ہیں۔
وبا سے متاثر اراکین اسمبلی میں ظفریاب خان، گل ظفر اور محمود شاہ شامل ہیں۔
خیال رہے کہ کرونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو ماہ کے بعد پاکستان کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے اجلاس رواں ہفتے ہونے جارہے ہیں۔
ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار جب کہ سینیٹ کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا۔
اس غیر معمولی اجلاس میں شرکت کے لیے تمام اراکین پارلیمنٹ کے کرونا وائرس ٹیسٹ کرانے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
قومی ادارہ صحت نے ہفتے کو اراکین سینیٹ و قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کے ملازمین کے کرونا وائرس کے نمونے حاصل کیے جن کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق اب تک تین اراکین اسمبلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سینیٹر مرزا محمد آفریدی پہلے سے اس وبا میں مبتلا ہیں جب کہ انہوں نے خود کو قرنطینہ کر رکھا ہے۔ قومی اسمبلی کے تین ملازمین بھی پہلے سے کرونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔
کرونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان کی پارلیمنٹ عملی طور پر گزشتہ دو ماہ سے معطل ہے۔ وبا سے پیدا شدہ حالات میں قومی اسمبلی و سینیٹ کے ورچوئل اجلاس بلانے پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد باقاعدہ اجلاس بلائے گئے ہیں۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ان غیر معمولی اجلاسوں میں کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔
- By روشن مغل
پاکستانی کشمیر میں 24 گھنٹوں میں کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی فرد میں کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
محکمہ صحت کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں اب تک 2872 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 2798 کے نتائج آ چکے ہیں۔
حکام کے مطابق 86 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جن میں سے 64 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں اور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ 22 مریض زیر علاج ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2705 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی۔
والد کی وفات پر میں ماں کے گلے لگ کر رو بھی نہ سکا
قرنطینہ کی مدت پوری ہو گئی۔ دو ٹیسٹ بھی منفی آ چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ابھی تک فاصلہ برقرار ہے۔ اس سے زیادہ کیا ستم ہو گا کہ ابھی تک والد کی وفات پر میں اور امی ایک دوسرے کے گلے سے لگ کر رو بھی نہیں سکے۔ یہ الفاظ ہیں کراچی کے رہائشی 37 سالہ سید وقار الحسن کے، جن کے والد لطیف الحسن کرونا وائرس کا شکار ہو کر وفات پا گئے اور اسی روز ان میں اور ان کی والدہ شہناز لطیف میں بھی وائرس کی تشخیص ہو گئی۔
حال ہی میں وائس آف امریکہ نے کرونا کا شکار ہونے والے افراد کی تدفین کے عمل پر ایک ڈیجیٹل رپورٹ بنائی۔ جسے دیکھ کر وقار کا غم تازہ ہو گیا کہ وہ بھی اپنے والد کے آخری سفر میں شریک نہ ہو سکے تھے جس کا انہیں شدید ملال ہے۔ وقار نے ہمیں اپنی آپ بیتی سنائی جسے ہم ان کی زبانی یہاں پیش کر رہے ہیں۔
20مارچ کو میرے والد کی طبیعت ناساز ہوئی۔ انھیں ہلکا بخار تھا، پھر نزلہ، زکام، گلا خراب ہوا، جو بظاہر معمول کی بات تھی۔ ہم نے ڈاکٹر کو علامتیں بتا کر اینٹی بائیو ٹکس اور اینٹی الرجی دوائیں دینا شروع کیں۔ لیکن پھر 27 مارچ کو جب وہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروا کر لوٹے تو ان کا سانس بہت تیز چل رہا تھا۔ جب وہ لیٹتے تو انھیں سانس لینے میں دشواری پیش آتی۔ یہ کیفیت نمونیا کے مرض جیسی تھی۔
امی نے جب ابو کی یہ حالت دیکھی تو انھوں نے مجھے کہا کہ انھیں اسپتال لے جانا چائیے۔ ان کے لیے رات گزارنا مشکل ہو سکتا ہے۔
پاکستانی فوج میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت
طورخم سرحد پر کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے تعینات میجر محمد اصغر خود اس مہلک وائرس کا نشانہ بننے کے بعد چل بسے ہیں۔
فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر اصغر پاکستان اور افغانستان کی اہم سرحدی گزرگاہ طورخم پر لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت کے دوران کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اسکریننگ کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔
اس دوران وہ بھی وائرس کا شکار ہوئے جنہیں مرض کی شدت بڑھنے سے سانس لینے میں دشواری پیش آنے لگی تھی جس پر انہیں سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا۔
بیان کے مطابق میجر اصغر کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر محمد اصغر نے کرونا سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔ قوم کی خدمت سے بڑا کوئی کاز نہیں ہے۔